36

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اعلان کر دیا

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ جب تک میں گورنر ہوں سرور فاﺅنڈیشن کی کسی بھی فنڈریزنگ کا حصہ نہیں بنوں گا ، لوگوں کو فنڈریزنگ پر اعتراضات تھے جنہیں میں قبول کرتاہوں,سرورفاونڈیشن کےتمام فنڈ آب پاک اتھارٹی کو منتقل کیے جائیں گے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور کا کہناتھاکہ میری زندگی میں ایسا بھی وقت آیا جب میرے پاس دو راستے تھے ، ، ایک راستہ کہ میں امیر بنوں اور دوسرا کہ میں سیاست دان بنوں ، میں نے سیاست کا راستہ چنا اور ہاﺅس آف لارڈز کی طرف چل پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ ہاوس آف لارڈز کے دروازے مسلمانوں کیلئے بند تھے ، کوئی بھی مسلمان پارلیمنٹ کا ممبر نہیں تھا ، پورے یورپ میں کوئی مسلمان کسی پارلیمنٹ کا ممبر نہیں تھا ، کہیں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں تھی تاہم میں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا ۔1997 میں برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا مسلمان ممبر بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور میں نے جس قرآن شریف پر حلف اٹھایا وہ آج بھی برطانوی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔

جب میں امریکہ دورے پر گیا تو خبر ملی کہ میری گورنری چلی گئی ، میں نے عہدوں سے کبھی پیار نہیں کیا ، میں انسانوں سے محبت کرتاہوں ، مجھے جب گورنر بنایا گیا ، میں سینیٹ کا ممبر تھا میں انجوائے کر رہاتھا ، گورنر بنانے کا فیصلہ پارٹی نے کیا ، مجھے گورنر بننے پر کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی ، جو پارٹی نے فیصلہ کیا میں نے اسے قبول کیا لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتاہوں کہ دو چیزیں گورنری سے اہم ہیں جو عمران خان نے میرے حوالے کیں ، ایک وزیراعظم نے مجھے ٹورزم اور ثقافت کا سربراہ بنایا ، میں پوری قوم کو مبارک باد دیتاہوں کہ کل پنجاب آب پاک اتھارٹی کے بل پر دستخط کر دیئے ہیں ، میرا جذبہ ہے کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے ۔

چوہدری سرور کا کہناتھا کہ دنیا میںسب سے بڑا کاروبار سیاحت ہے ، بد قسمتی سے کسی حکومت نے اسے فروغ دینے کی کوشش نہیں کی لیکن عمران خان نے اس پر خاص توجہ دی ، میرے فیصلوں پر عمل ہوتا تو پارٹی کو پنجاب میں بھی دو تہائی اکثریت ملتی لیکن جمہوریت پر یقین رکھتاہوں اس لیے اپنے فیصلوں کی قربانی دی ، پہلی مرتبہ پاکستان نے بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست دی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں