65

” گو بے بی گو “ اسمبلی میں مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن کے نعرے

قومی اسمبلی میں نماز ظہر کے وقفے کیلئے بیس منٹ کیلئے اجلاس کو ملتوی کر دیا ہے تاہم اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے خوب احتجاج کیا گیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ ی گئیں تاہم جب تحریک انصاف کے وفاقی وزیر مراد سعید تقریر کرنے کیلئے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن بینچز کی جانب سے ” گو بے بی گو “ کے نعرے لگانے اور شور شرابا شروع کر دیا گیا جس کے باعث حکومتی وزیر کو تقریر میں کافی مشکلات کا سامنا رہا ۔

قومی اسمبلی ے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ اپوزیشن مجھے دو منٹ خاموشی سے سنیں میں انہیں آئنہ دکھا دوں گا ، اپوزیشن میں ہمت ہی نہیں کہ مجھے سن سکے ،ان کو علم ہے کہ میں ان کو آئینہ دکھا ﺅں گا اس لیے شور شرابا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مودی سے ملاقاتیں کر کے ذاتی تعلقات بناتے ہیں ۔

اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا بڑھا تو مراد سعید سے تقریر کو اختتام پر پہنچانے کیلئے کہا گیا تاہم انہوں نے ڈپٹی سپیکر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے تقریر شروع ہی نہیں کی تو جلدی کیسے ختم کروں ۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف باہر جا کرکہتے ہیں کہ پاکستان میں کالعدم تنظیمیں ہیں ، کل جب کلبھوشن کو گرفتار کیا جارہا تھا تو اسے دہشتگرد کہتے ہوئے انہیں شرم آتی تھی ،جب پاک فوج بھارتی طیارے گرا رہی تھی تو بلاول ان کا مقدمہ لڑ رہا تھا ،بلاول کے ابو اور پھوپھو کے اکاونٹ میں کرپشن کے پیسے ہیں۔

مرادسعید کاکہنا تھا کہ حسین حقانی جو آج پاکستان کیخلاف زہر اگل رہاہے اسے بھی آپ ہی کے دور میں سفیر لگایا گیا تھا ، بلاول بھٹو زرداری حادثاتی طور پر پارٹی کے چیئرمین بن گئے ہیں ،بلاول بھٹو زرداری کو یونیورسٹی کی فیس بھی واپس کرنا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں