78

ملک کے مقتدر حلقوں کاایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا فیصلہ

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اپنی اپنی قیادت سے ناراض رہنمائوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کیخلاف سنگین کرپشن کے مقدمات اور نااہلی کے سبب ملک کے سیاسی اور مقتدر حلقوں نے قومی سطح پر ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ بات ایکسپریس نیوز نے لکھی ۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق سینئر سیاستدان محمد علی درانی اس نئی جماعت کی تشکیل کیلیے متحرک ہیں اور ان کے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ناراض رہنماوں اور کارکنوں سے بھی رابطے جاری ہیں، آئندہ انتخابات تک کرپشن کے مقدمات کی وجہ سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے مستقل طور پر نااہل ہونے کا خدشہ ہے جس سے ان کا پاکستانی سیاست میں موثر کردار بھی تقریباً ختم یا انتہائی کمزور ہو چکا ہوگا اور ان کی انتخابی طاقت بھی بہت کمزور ہو چکی ہو گی۔ ایسے میں ملک کو ایک نئی قومی سیاسی جماعت کی ضرورت ہو گی جو اس سیاسی خلا کو پر کر سکے۔محمد علی درانی اس سیاسی جماعت کے قیام کیلئے اپنے دوستوں اور دیگر ہم خیال سیاستدانوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس جماعت کے قیام کے لیے ایک روڈ میپ تیار کر لیا گیا ہے جس کے مطابق مذکورہ جماعت ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ان رہنمائوں اور کارکنوں کے لیے بڑے متبادل کے طور پر سامنے آئے گی جن کیلیے تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جس کے ساتھ ہر انتخابی حلقہ میں ایک مضبوط دھڑا قائم ہو جائیگا۔نئی سیاسی جماعت کیلیے تین نام شارٹ لسٹ کر لیے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک نام محمد علی درانی اپنے دوستوں کی اگلی نشست میں اگلے 24گھنٹے میں فائنل کرلیں گے۔ پارٹی کے آئین کا ابتدائی مسودہ بنا لیا گیا ہے جبکہ جھنڈے اور دیگر چیزوں کی تیاری کیلیے ملک کی ایک اشتہاری ایجنسی کو کام دے دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں