101

ذاتی مصروفیات کی وجہ سےاجلاس میں شریک نہیں ہوا، فواد چودھری

فاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہوا، ذاتی مصروفیات کی بناء پر لاہور میں ہوں، اس لیے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میںآ ج پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں جہانگیرترین، عمر ایوب، عبدالرزاق داؤد، پرویز خٹک، فیصل جاوید، فیصل واوڈا، شیخ رشید، فردوس عاشق اعوان، عثمان ڈار، خسروبختیار، ندیم افضل چن، شہزاد اکبر، افتخار درانی،حماد اظہر سمیت وفاقی وزراء ، مشیران ، معاونین خصوصی نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان پارٹی ترجمانوں کو پارٹی کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔اسی طرح اجلاس میں پارٹی بیانیہ سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔

ملکی معیشت اور سیاسی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔معاشی استحکام سے متعلق اقدامات سے پارٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔قابل غور بات یہ ہے کہ چند ایسے وزراء جن کی وزارتیں تبدیل کردی گئیں یا پھر وزارت دی نہیں گئی، انہوں نے آج پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت نہیں کی،ان میں سابق وزیرخزانہ اسد عمر، فواد چودھری، شہر یار آفریدی اور عامر کیانی شامل ہیں۔

فواد چودھری سے وزارت اطلاعات کا قلمدان لیکر انہیں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی دے دی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں ہیں اور ذاتی مصروفیات کی بناء پر اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں سابق وزیرخزانہ اسد عمرشریک نہیں ہوئے، پی آئی آئی کے اہم اجلاس میں سینئر رہنماء اسد عمر کی عدم شرکت سے ناراضگی کھل کرسامنے آگئی،اسد عمر کا کہنا کہ وزیراعظم کے ساتھ کھڑا ہوں پھر نئے پاکستان کی تعمیرسے متعلق اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنا پارٹی قیادت سے ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیرخزانہ اسد عمر پی ٹی آئی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،اسد عمر تحریک انصاف کے سینئر اور اہم رہنماء ہیں، لیکن ان کا پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔اسد عمر اگر پارٹی اجلاس میں شرکت کرتے، اور نئے پاکستان کی تعمیر جس میں معاشی استحکام، پارٹی بیانیہ ، سمیت سیاسی و معاشی حالات پر اپنی رائے دیتے جس طرح وہ پی ٹی آئی کی حکومت بننے سے پہلے اجلاسوں میں بھرپور انداز میں شرکت کرتے تھے اور پارٹی کو فعال بنانے اور حکومت کے حوالے سے اپنی مثبت رائے دیا کرتے تھے، اسی طرح ان کو چاہیے تھا کہ وہ آج بھی اجلاس میں شرکت کرتے، کیونکہ وزارت توآنے جانے والی چیز ہے ۔

لیکن وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اہم اجلاس میں اسد عمر کی عدم شرکت سے پارٹی کارکنان بھی مایوسی کا شکار ہیں، پارٹی کے ایسے نظریاتی کارکنان جو اسد عمر سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کا سب سے اہم کھلاڑی اسد عمر پاکستان کی تقدیر بدلے گا، معیشت کو مضبوط کرے گا، پچاس گھروں کی تعمیر سمیت ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ جس کا اعلان پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں کررکھا ہے، اس وعدے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا لیکن اسد عمر کے وزارت خزانہ سے مستعفی ہونے سے کارکنان کو شدید دھچکا لگا ہے۔

تاہم اسد عمر اگر کپتان کے ساتھ کھڑے ہیں توپھر انہیں وزارت کو نہیں کپتان کودیکھنا چاہیے تھا، اور پارٹی اجلاس میں شریک ہوکر پارٹی سے اپنی وابستگی کو ظاہر کرنا چاہیے تھا۔لیکن ان کے پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت کی بجائے ایک روز قبل اسلام آباد سے کراچی چلے جانا ناراضگی کو ظاہرکرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں