67

مولانا فضل الرحمان کا پریشان کن دعویٰ

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ موجودہ حکومت نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کے مینڈیٹ کو جعلی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ عمران خان مستعفی ہوں اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔

اپنے ایک بیان میں جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئی ایم ایف معاشی معاملات میں مداخلت کررہا ہے،حکومت آئندہ بجٹ پیش کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی اس لیے پاکستان کابجٹ آئی ایم ایف تیارکرے گا، موجودہ حکومت کی جانب سے 8 ماہ میں جوقرضہ لیاگیاہے وہ گزشتہ 30 برسوں میں بھی نہیں لیا گیا۔ حکومت یومیہ 15 ارب روپے قرضہ لے رہی ہے لیکن اتنا قرضہ لینے کے باوجود عام آدمی کی حالت نہیں بدلی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک کویہاں تک پہنچادیا،سیاسی قیادت کو عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے اور ان پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اس جعلی حکومت کو نہ تو عوام کی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی یہ حکومت کرنے کی اہل ہے، 8 ماہ سے ملک معاشی و سیاسی بحران کا شکار ہے ، عمران خان مستعفی ہوں اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بی آرٹی منصوبہ شہریوں کیلئے عذاب بن چکا ہے ، 25ارب کامنصوبہ ایک کھرب تک پہنچ گیا، تجاوزات کی آڑ میں لوگوں کے گھر گرائے جارہے ہیں، موجودہ حکمرانوں کے پاس جعلی مینڈیٹ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں