45

خاتون نے گھنٹی بجا بجا کر اپنی کمر درد کا علاج کرلیا

کمر کا درد بھی ان امراض میں شامل ہے جو لاحق ہو جائیں تو ان سے چھٹکارا انتہائی مشکل ہوتا ہے تاہم آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ برطانیہ میں ایک خاتون نے چرچ کی گھنٹی بجا بجا کر اپنے کمردرد کا علاج کر لیا۔ میل آن لائن کے مطابق یہ خاتون نتالی بلیکلی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ایک سائنسدان ہے۔ 30سال کی عمر کو پہنچ کر اسے کمر میں مستقل درد رہنے لگا ۔ یہ درد ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے میں ہوتا تھا، جس نے اس کے لیے مشکل کام کرنا تو دور، چلنا پھرنا بھی دوبھر کر دیا تھا۔

پھر نتالی نے چرچ جا کر وہاں کی گھنٹی بجانا شروع کر دی۔ وہ ہفتے میں دو بار برطانوی شہر لیتھرہیڈ کے سینٹ میری اینڈ سینٹ نکولس چرچ جاتی اور وہاں کافی دیر تک گھنٹیاں بجاتی رہتی۔ چرچ کی یہ گھنٹی ایک رسی کے ساتھ بندھی ہوتی ہے جسے گھنٹی بجانے والا نیچے کھینچتا اور پھر چھوڑ دیتا ہے اور وہ یہ عمل کافی دیر تک جاری رکھتا ہے۔ یہ ایک طرح کی ورزش ہوتی ہے اور اس ورزش نے 49سالہ نتالی کو اس کے کمردرد سے نجات دلا دی۔ نتالی کا کہنا ہے کہ ”میں کئی سال سے اس مرض میں مبتلا تھی۔ 2014ءمیں میری بیٹی جمائما نے ایک تحریر پڑھ جس میں چرچ کی گھنٹی بجانے سے کمر درد دور ہونے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ میں نے اس کے کہنے پر یہ کام شروع کر دیا۔ ابتداءمیں تو مجھے کوئی افاقہ نہ ہوا لیکن میں ثابت قدمی سے ہر ہفتے دو بار چرچ جاتی رہی اور گھنٹی بجاتی رہی، چند ماہ بعد میرے کمر درد میں واقعی کمی آنی شروع ہو گئی اور اب میرا یہ عارضہ بالکل ختم ہو چکا ہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں