83

دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپ کس ملک میں ہیں ؟

بلوچستان کے کوسٹل ہائی وے پر دہشتگردوں کی جانب سے 14 معصوم پاکستانیوں کو شہید کرنے کے معاملے پر وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ بلوچ دہشتگرد تنظیم کی کارروائی ہے ، جس کے ٹریننگ کیمپ ایران کی سرحد کے اندر ہیں جن کی ہم نے لوکیشن بھی ڈھونڈ لی ہے ، ایران کو اپنی توقعات سے آگاہ کر دیاہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ تنظیموں کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں گے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بلوچستان میں پیش آنے والے دہشتگرد واقعہ کے پیچھے ملوث عناصر کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ 18 اپریل کو سرحد پار سے 15دہشتگرد اخل ہوئے ، جنہوں نے فرنٹیئر کور کی وردیاں پہن رکھیں تھی ، دہشتگردوں نے بسوں کو روکا اور شناخت کرتے ہوئے 14 پاکستاننیوں کو شہید کیا ، شہدا میں 10 جوانوں کا تعلق پاک نیوی ، تین کا پاک فضائیہ اور ایک کا کوسٹل گارڈز سے تھا ۔ ان کہناتھا کہ اس کی ذمہ داری بی آر آئی اے نے قبول کی اور ہمارے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ بلوچ دہشتگرد تنظیم کی کارروائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے لاجسٹک اور ٹریننگ کیمپس ایران میں سرحد پار واقع ہیں ، ہم نے تحقیق کے بعد ایران میں حکام کے ساتھ معلومات شیئر کردی ہیں اور انہیں اعتماد میں لیا ہے جبکہ ہم نے ان کیمپس کی لوکیشن بھی ڈھونڈ نکالی ہے ۔

شاہ محمود قریشی کا کہناتھا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ایران پاکستان کا برادر ملک ہے اور ہمارا ہمسایہ ہے جس کے ساتھ ہمارے درینہ اور مضبوط تعلقات ہیں ، کہ وہ ان تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے ایرانی بھائی ان تنظیموں کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف سے ایکشن کی توقع کر رہے ہیں جبکہ ہم اپنے افغان بھائیں سے بھی کارروائی کی توقع کرتے ہیں کیونکہ بی آر آئی اے کے تانے بانے وہاں بھی جاتے ہیں جبکہ ان کی لیڈرشپ کی موجودگی کی بھی وہاں پر نشاندہی ہوتی رہی ہے ، افغانستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہم اس کے امن و استحکام کیلئے خواہشمند ہیں ۔ ہمیں توقع ہے کہ جس خیر سگالی اور نیک نت سے ان کی مدد کر رہے ہیں وہ بھی اسی جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری مدد کریں گے ۔

شاہ محمود قریشی کا کہناتھا کہ ہمارے پاس فرانزک شواہد موجود ہیں اور شیئر بھی کیے جا سکتے ہیں تاکہ ان مجرموں کو پکڑا جا سکے جو کہ اس واقعہ میں ملوث ہیں ، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اس راستے کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کیلئے استعمال کیا گیا ہو ، میر ی آج صبح ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے بات ہوئی ہے اور اس دوران میں نے پاکستانی قوم کے غم و غصہ سے متعلق انہیں آگاہ کیا ہے اور پاکستان کی توقعات سے بھی آگاہ کیاہے ۔ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم عمران خان کل ایران جارہے ہیں اور اگفتگو کا مزید موقع بھی ملے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں