71

وزیراعظم عمران خان کا دبنگ اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے میں اللہ کو جواب دہ ہوں اور اللہ میرے سے چاہتاہے کہ میں اپنے ملک کے کمزور لوگوں کو اوپر اٹھاﺅں اور یہی میرا مقصد ہے ، ابھی بھی میں نے اپنی ٹیم کے اندر بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے اور میں آگے بھی کروں گا ، میں سارے وزیروں سے کہنا چاہتاہوں کہ جو وزیر میرے ملک کیلئے فائدہ مند نہیں ہو گا میں اسے تبدیل کروں گا اور اس کی جگہ نیا لے کر آﺅں گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتان کو میچ جیتنے کیلئے بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اپنی ٹیم پر نظر رکھیں ، ہم اللہ کو جواب دہ ہیں ، یہ بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جب اللہ آپ کو ملک یا صوبے کا سربراہ بناتا ہے ، وہ دیکھتا ہے ۔ اس لیے ہمارے پر ذمہ داری آتی ہے کہ ہم بھی مسلسل اپنی ٹیم پر نظر کھیں اور کوئی بھی ہمارا اگر کھلاڑی ٹھیک پرفارمنس نہیں دے رہا ہے تو اس کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کریں یا تبدیل کر کے نیا کھلاڑی لے کر آئیں۔

وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے میں لوگوں کا اس شاندار استقبال کا دل سے شکریہ ادا کرتاہوں ، میں 27 سال پہلے میںاس علاقے میں اس وقت آیا تھا جب میں اس پر کتاب لکھ رہا تھا ۔ سارے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی ایجنسی میں گھوما اور کتا ب لکھی، اس لیے جب یہ دہشتگردی کیخلاف جنگ شروع ہو ئی تو میں وہ واحد پاکستانی سیاستدان تھاجو سارے قبائلی علاقوں میں گھوما ہوا تھا اور ان کو جانتا بھی تھا لہذا میں نے بار بار کہا کہ پاکستان کی فوج کو امریکہ کے کہنے پر قبائلی علاقے میں نہ بھیجا جائے ، میں نے یہ اس لیے کہا کیونکہ قبائلی علاقے کے لوگ ہی ہماری فوج تھی ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ بد قسمتی سے جو اس وقت کے حکمران کو قبائلی علاقے کا پتا ہی نہیں تھا ،نہ اس علاقے کی روایتوں کا ، نہ ہی اس کو قبائلی علاقے کی تاریخ کا پتا تھا ، لہذا جو ہمارے قبائلی علاقے میں ہوا اس کے بارے میں باہر کے لوگوں کو نہیں پتا کہ یہاں کتنی تباہی مچی ، میں مسلسل اس کے خلاف بولتا رہا ، اس میں پاکستانی فوج کا قصور نہیں تھا بلکہ اس حکمران کا تھا جس نے امریکہ کے کہنے پر قبائلی علاقے میں پاکستان کی فوج کو بھیجا ۔

ہمارے جوان بھی شہید ہوئے اور قبائلی علاقے کے لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بہت کم لوگوں کو پتا چلا ، جو لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی وہ میں جانتا ہوں کہ کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ آج میں سارے قبائلی علاقوں میں کیوں گھوم رہاہوں ، کوئی پاکستان کا وزیراعظم اتنے قبائلی علاقوں میں نہیں گیا ،جتنا میں جا رہاہوں ، کیونکہ کسی اور وزیراعظم کو ایسی قبائلی علاقے کی سمجھ نہیں جو کہ مجھے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں