66

وزیراعظم نے اسد عمر اور عامر کیانی کو ڈی نوٹیفائی کردیا

وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر اور عامر کیانی کو ڈی نوٹیفائی کردیا ہے، وزیراعظم نے ڈی نوٹیفائی کی سمری پر دستخط بھی کردیے،سمری کابینہ ڈویژن کو بھجوا دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر اور عامر کیانی کو ڈی نوٹیفائی کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے دستخط کرکے سمری کابینہ ڈویژن کو بھجوا دی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کو اسد عمر اور عامر کیانی کے معاملے پر کنفیوژن پیدا ہوگئی تھی۔اب سمری ملنے پر کابینہ ڈویژن نئی فہرست جاری کرے گی۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کردی ہے۔ وزیرخزنہ اسد عمر نے اپنی وزارت چھوڑنے کا اعلان کیا اور آئندہ بغیر کسی وزارت کے پارٹی کی سپورٹ جاری کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی وزارتوں میں تبدیلیوں کا سیلاب کھڑا ہوگیا۔ وزیراطلاعات فواد چودھری کو سینئیر پارٹی رہنماؤں اور ایم ڈی پی ٹی وی پرتنقید سمیت ملازمین کے مظاہرے میں آمد پارٹی قیادت کو اچھی نہیں لگی، جس پر فواد چودھری کیلئے کڑے دن شروع ہوگئے تھے۔ اس سے فواد چودھری بھی آگاہ تھے کہ ان کی وزارت تبدیل کردی جائے گی لیکن فواد چودھری نے کوشش بھی کی کہ ان کی وزارت بچ جائے۔
تاہم وزیراعظم عمران خان نے فواد چودھری کو ان کی خواہش کے مطابق نئی وزارت دی ہے۔ وزیراعظم نے اعظم سواتی کی خالی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کو دے دی ہے۔ فواد چودھری نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی طرح وزیراعظم نے اعظم سواتی کی کابینہ میں واپسی کا فیصلہ بھی ایک ماہ پہلے کرلیا گیا تھا۔ جس کے تحت وزیراعظم ان پارلیمانی کی وزارت میں ایڈجسٹ کردیا ہے۔

جبکہ وزیرپارلیمانی امور اعجاز شاہ کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپ دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز فردوس عاشق اعوان کو فون کرکے نئی ذمہ داری سے خود آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے فردوس عاشق اعوان کو وزارت اطلاعات سونپنے کا فیصلہ ایک ماہ پہلے کرلیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرمملکت داخلہ شہریار آفریدی اختیارات کے باوجود متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے۔
اسی طرح اعجاز شاہ، حفیظ شیخ اوراعظم سواتی کو وزارتیں دینے کا فیصلہ مشاورت کے بعد کیا گیا۔ ڈاکٹرظفر اللہ مرزا کو انکی مہارت کی بنیاد پر وزارت صحت میں بطور معاون آزمانے کافیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے عامرکیانی کو ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر ناراضگی کا پیغام پہنچایا۔ جس پر انہیں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ غلام سرورخان کو گیس بلوں پرسخت دباؤ کے باعث تبدیل کیا گیا۔،

اپنا تبصرہ بھیجیں