79

کینیڈین خاتون نے ملزمان کیخلاف مقدمہ واپس لے لیا

کینیڈین خاتون نے جنسی طور پر ہراساں کرنیوالے ملزمان کو معاف کرتے ہوئے ان کے خلاف درج مقدمہ واپس لے لیا۔اپنے ایک ویڈیو بیان میں خاتون نے بتایا کہ میں نےہراساں کرنیوالے ملزمان کوشناخت کرلیا ہے اور اب میں گرفتار کیے گئے ملزمان کو معاف کرتے ہوئے اپنا مقدمہ واپس لیتی ہوں۔خاتون کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان میں میری دیکھ بھال کی گئی ہے میں اس کی شکر گزار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے انتظامیہ کی جانب سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔کینیڈین خاتون نے کہا کہ میں پاکستان کی ترقی کیلئے دعاگو ہوں اور چاہتی ہوں کہ یہاں ٹورازم کو فروغ ملے۔واضح رہے کہ تھانہ سہالہ کی حدود میں ایک نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں دو لڑکوں نے راستہ روک کر کینیڈین خاتون کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہا تھا۔

اس موقع پر ملزمان نے خاتون کی گاڑی کا پیچھا کیا اور مسلسل ہراساں کرتے رہے اور ڈرائیور سے بار بار منزل کا پوچھتے رہے۔خاتون کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق خاتون نے ملزمان کے ڈر سے ایک شاپنگ سینٹر میں چھپ کر جان بچائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں