71

بہترین کارکردگی سے عوامی تاثر بدلیں گے : کیپٹن (ر) عارف نواز

آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہاہے کہ پولیس ریفارمز ہم خود کریں گے، پولیس میں موجود ایسے عناصر جوغیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اور محکمے کے نام پر کلنک کا ٹیکہ بن چکےہیں کا خاتمہ کرتے ہوئے ادارے کو ان سے پاک کیا جائے گا ، پنجاب پولیس کو بطور ادارہ مضبوط کیا جائے گا اوربہترین کارکردگی کے ذریعے نہ صرف عوامی تاثر کو بدلیں گے بلکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نچلی سطح تک ایسی پالیسیز بنائی جائیں گی جن کے ذریعے عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو گا،

سنٹرل پولیس آفس میں بنائی گئی پالیسیز کے حوالے سے جاری کیے گئے ایس او پیز اور سٹینڈنگ آرڈرزپر تمام فیلڈ افسران عملدرآمد کے پابند ہوں گے،اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اورہر سطح پر مشاورت کے ساتھ واضح حکمت عملی بنائی جائے گی جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمہ کو ایک مثالی ادارہ بنانے کے لیے تمام افسروں اور اہلکاروں کو میدان عمل میں آنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد سنٹرل پولیس آفس لاہور میں تمام افسروں سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب، کیپٹن (ر) احمد لطیف، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ پنجاب، طارق مسعود یٰسین، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، انعام غنی، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس، سردار علی خان، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، منظور سرور چوہدری، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب، ابوبکر خدا بخش اور ایڈیشنل آئی جی لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ، غلام رسول زاہد کے علاوہ دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس ریفارمز ہم خود کریں گے اور انشاء اللہ عوام کو ایک ریفارمڈ پولیس نظر آئے گی، ہمیں مل کر اپنی فورس کو مضبوط کرنا ہو گا اوران کی ویلفیئر کا دھیان رکھنا ہو گا تا کہ وہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں،تمام مالی امور کی فیلڈ افسران اور تمام سربراہان براہِ راست خود نگرانی کریں تا کہ معاملات کو شفاف طریقے سے چلایا جا سکے، ہر سوموار کو افسروں کی میٹنگ ہو گی اور تمام پالیسیز ایگزیکٹیو بورڈکے ذریعے بنائی جائیں گی ۔

انہوں نے تمام افسران کو کہا کہ پالیسی سازی کے دوران انہیں رائے دینے کا پورا موقع دیا جائے گا لیکن فیصلے کے بعد اس پر 100فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانا افسران کی ذمہ داری ہو گی اور اس کی پوری طرح ذمہ داری لینا پڑے گی۔

آئی جی پنجاب نے ویلفیئر کے حوالے سے کہا کہ ہمیں شہیدوں اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین اور دیگر ویلفیئر کے معاملات میں اپنے سسٹم کو مزید بہتر کرنا ہو گا تا کہ فورس اس مقصد کے لیے میڈیا ، عدالتوں یا سیاسی رہنماؤں کا سہارا لیے بغیر اپنے محکمے سے ریلیف حاصل کر سکے، اگر ہم اپنی فورس کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے تووہ بھی عوام کو انصاف کی فراہمی کے قابل نہیں ہو سکتے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی سسٹم کو مزید بہتر کرنا ہو گا اور اس کے لیے دی جانے والی سزاؤں کو مثالی بنایا جائیگا،جس کے لیے ایک باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی تا کہ جرم کی نوعیت کے حساب سے سزا دی جا سکے۔

کیپٹن (ر) عارف نواز نے مزید کہا کہ دیگر اضلاع سے انصاف کے لیے سی پی او میں آنے والے سائلین اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس ضلع کے افسروں سے انہیں انصاف نہیں ملا لہذا تمام فیلڈ افسران کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا،ادارے کے اندر موجود ایسے تمام عناصر کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو اپنے آپ کو محکمہ کے لیے ایک لازمی جزو سمجھ کر محکمہ کے نام پر کلنک کا ٹیکہ بن چکے ہیں اور جو ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں،ادارے کو ان سے پاک کیا جائے گا، بھرتی کے عمل کو بھرپور طریقے سے شفاف بنایا جائے گا ۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ وہ ٹریننگ کو اولین ترجیح دیتے ہیں کیونکہ جدید تربیت کے ساتھ ہی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور آئندہ پولیس ٹریننگ سنٹرز میں چن چن کر پروفیشنل افسران کی تعیناتی کی جائے گی، ٹریننگ کبھی بھی طاقت کے زور سے نہیں ہو سکتی یہ ہمیشہ دل سے کی جاتی ہے،ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

اس کے علاوہ آئی جی پنجاب نے فنانس، ویلفیئر، آپریشن، پی ایچ پی، سپیشل برانچ، انوسٹی گیشن، ایس پی یو ڈویلپمنٹ اور دیگر یونٹس کے سربراہان کو کہا کہ وہ انہیں اپنے اپنے شعبوں کے بارے میں کل سے مکمل بریفنگ دیں گے تا کہ ایک واضح حکمت عملی کے تحت کام شروع کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام فیلڈ افسران کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ رمضان المبارک کے مہینے میں رمضان بازاروں، مسجدوں ، امام بارگاہوں اور تمام عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لیے پلان تیار کر کے بھیجیں تا کہ اس کے لیے بھی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

قبل ازیں آئی جی پنجاب، کیپٹن (ر) عارف نواز کی سنٹرل پولیس آفس آمد پر پولیس کے روایتی دستے نے سلامی پیش کی اور رخصت ہونے والے آئی جی ، امجد جاوید سلیمی نے انہیں روایتی سٹک ہینڈ آور کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی کمانڈ ان کے حوالے کی۔

بعدازاں کیپٹن (ر) عارف نواز نے رخصت ہونے والے آئی جی ، امجد جاوید سلیمی کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بطور کولیگ ہم نے اس ادارے کے لیے اکٹھے کام کیا ہے اور امجد جاوید سلیمی کے شروع کیے گئے تمام اقدامات کو جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب نے امجد جاوید سلیمی کو پولیس کا روایتی سووینیئر اور شیلڈ پیش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں