113

فنڈز کی وجہ سے میٹرو اورنج لائن ٹرین کام نہیں رکنا چاہیے. سپریم کورٹ

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ فنڈز کی وجہ سے میٹرو اورنج لائن ٹرین کے منصوبے پر کام نہیں رکنا چاہیے اور منصوبے کے راستے میں جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنا دیا جائے. جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے میٹرو اورنج لائن ٹرین منصوبے میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کی.

عدالت نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ، سیکرٹری فائنانس، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ، قومی احتساب بیورو (نیب) پروسیکیوشن ٹیم کے نمائندے اور تعمیراتی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے.

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کام نہ ہونے سے منصوبے میں تاخیر ہورہی ہے، تعمیراتی کمپنیوں نے 15 اپریل تک کام مکمل کرنا تھا، تعمیراتی کمپنیوں نے اپنی یقین دہانی پوری نہیں کی.

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تعمیراتی کمپنیاں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گی تو وہ پھر کہیں اور جائیں گی، منصوبے پر کام نہیں ہوگا تو معاملہ نیب کو بھی بھیجا جا سکتا ہے. انہوں نے کہا کہ فنڈز کی وجہ سے منصوبے پر کام نہیں رکنا چاہیے اور منصوبے کے راستے میں جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنا دیا جائے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی.

رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو تعمیراتی کمپنیوں کو بر وقت ادائیگیوں کی بھی ہدایت کی تھی. گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل اور کمپنیوں کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ایک عدالتی ثالث مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں