54

اوبر نے کریم کمپنی خریدتے ہی پاکستانی ڈرائیورز کو زوردار جھٹکا دیدیا

آن لائن ٹیکسی سروس اوبر نے کلٹس گاڑی کو ’گو‘ سے ’منی‘ کیٹیگری میں شامل کر دیا ہے جس کے باعث ڈرائیور غصے کا شکار ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس اقدام سے انہیں بری طرح مالی نقصان ہوا ہے جبکہ اس اقدام سے سب سے زیادہ ان نوجوان طلبا کو متاثر کیا جو اپنی ڈگری مکمل کرنے کے دوران اپنے اہل خانہ کی مالی مدد کیلئے (اپنی مرضی کے اوقات) میں اوبر چلاتے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے گزشتہ ہفتے ڈرائیوروں کو بذریعہ ایک پیغام آگاہ کیا گیا تھا کہ بہت سی وجوہات کی بناءپر 2017ءاور اس کے بعد کی گاڑیوں کو چھوڑ کر تمام کلٹس گاڑیاں گو سے منی کیٹیگری میں شامل کی جارہی ہیں اور ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ کمپنی کے اس فیصلے سے وہ بہت حیران ہیں۔

نجی خبر رساں ادارے ’ڈان نیوز‘ کے مطابق 61 سالہ ریٹائرڈ محمد اسماعیل کا کہنا ہے کہ میں 14 مہینوں میں 3 ہزار سے زائد رائڈ (سواریاں) مکمل کرچکا ہوں اور ’میں نے ایک اچھی رقم بنائی ہے تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے مجھے اپنی کمائی کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ میں اس دن بھی 1600 روپے بنا لیا کرتا تھا جس روز کام زیادہ نہیں ہوتا تھا لیکن اب زیادہ سے زیادہ 900 روپے ہی کما پا رہا ہوں۔

محمد اسماعیل نے اوبر کے اس فیصلے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’منی‘ کیٹیگری میں سواری حاصل کرنے سے قبل مجھے کم سے کم 5 سے 6 کلو میٹر کا فیصلہ طے کرنا پڑتا ہے جبکہ ’گو‘ کیٹیگری میں عموماً سواری 3 کلو میٹر کی حدود میں ہی ہوتی تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ میرا یندھن کا خرچ بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد سے میں اوبر کے دفتر گیا لیکن کسی قسم کا جواب نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب اوبر کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے یہ صارفین کی رائے پر مبنی ہے اور کمپنی اپنی منی پروڈکٹ کو صارفین کیلئے قابل اطمینان بنانا چاہتی ہے لیکن انہوں نے گاڑیوں کا درجہ کم کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کی جانب سے پروڈکٹ کی سب سے زیادہ قدر کی بنیاد پر صرف کچھ گاڑیوں کو منی میں منتقل کیا گیا ہے۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق 2001 کے بعد کی ایسی گاڑیاں جس میں ایئر کنڈیشن ہو وہ ’گو‘ کٹیگری میں شامل ہوتی ہیں جبکہ اس رپورٹ کی اشاعت تک اوبر کی ویب سائٹ پر کلٹس بھی گو کٹیگری میں ہی شامل تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں