79

ہائیکورٹ کے علیم خان کی درخواست ضمانت پر ریمارکس

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پوری دنیا میں جب تک انکوائری مکمل نہ ہو گرفتاری نہیں ہوتی ، ہمارے ملک میں انکوائری کے کسی بھی مرحلے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں عبدالعلیم خان کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،عبدالعلیم خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفرنے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ عبدالعلیم خان پرنیب کے آف شور کمپنیاں بنانے سمیت 18 سے زائد الزامات ہیں ،عبدالعلیم خان کو نیب کے11 کال نوٹسز بھجوائے گئے اور 10 برس کا ریکارڈمانگا گیا ، وکیل کا کہناتھا کہ عبدالعلیم خان 2007 سے 2018 تک کسی عوامی عہدے پر براجمان نہیں رہے ،عبدالعلیم خان نے نیب کی تفتیش میں مکمل تعاون کیا اور ریکارڈ فراہم کیا ، نیب کے 28 مارچ کے تحریری جواب میں کہاگیاعبدالعلیم خان کی انکوائری اپ گریڈ کی گئی ،وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عبدالعلیم خان کے خلاف نیب کی تفتیش تاحال جاری ہے ، معلوم نہیں عبدالعلیم خان کیخلاف ریفرنس بھی دائر ہونا ہے یا نہیں، ایسے میں عبدالعلیم خان کو جیل میں رکھنا خلاف قانون ہے ۔

وکیل عبدالعلیم خان نے کہا کہ 2007 تا 2019 عبدالعلیم خان کے خلاف کسی قسم کی انکوائری نہیں کی گئی ، عوامی عہدہ سنبھالنے کے بعد عبدالعلیم خان کےخلاف انکوائریاں شروع کر دی گئیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ دوران تفتیش عبدالعلیم کو گرفتار کرنا خلاف قانون ہے ۔

جسٹس مرزا وقاص نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہی نیب سے پوچھ رہے ہیں کسی ملزم کو گرفتار کرنےکاکیاطریقہ ہے ، جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہاکہ پوری دنیا میں جب تک انکوائری مکمل نہ ہو گرفتاری نہیں ہوتی ، ہمارے ملک میں انکوائری کے کسی بھی مرحلے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے ، بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ثابت کرنے کی ذمے داری پراسیکیوشن پر عائد ہوتی ہے ، نیب کے عبدالعلیم خان پر محض الزامات ہیں ثبوت نہیں ، عبدالعلیم پر الزامات ثابت کرنے کے لیے نیب کو کافی عرصہ درکار ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں