83

آصف زرداری کبھی اپنے والد کی برسی بھی منالیا کریں:چوہدری فواد حسین

وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ 10 برس پاکستان پر ڈاکو مسلط رہے،ان کے خلاف کچھ ہو تو فوراً جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے لیکن نہ جمہوریت خطرے میں ہے نہ اسلام کو کوئی خطرہ ہے،مولانا فضل الرحمن سے برداشت نہیں ہورہا کہ میں کیسے باہر ہوگیا؟آصف زرداری کبھی اپنے والد کی برسی بھی منالیا کریں۔

نجی ٹی وی کے مطابق کھیوڑہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےچوہدری فواد حسین نے اپنی حریف جماعتوں کی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جو کبھی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی پارٹی تھی وہ آج اندرون سندھ کی ایک چھوٹی سی جماعت بن گئی ہے،اس پارٹی کا بھی یہ حال ہے کہ بلاول بھٹو جب کاروان بھٹو چلاتے ہیں تو اپنے والد کی تصویر نہیں لگاتے جبکہ آصف علی زرداری کا بھی یہ حال ہے کہ وہ روزانہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظر بھٹو کی سالگرہ اور برسی مناتے ہیں تو وہ کبھی مرحوم حاکم زرداری کی بھی برسی منا لیا کریں وہ ان کے والد تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ 1988 کے بعد پاکستان کی اسمبلی کی ان سے جان چھوٹی ہے، جس پر ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں، ان سے برداشت نہیں ہورہا کہ میں کیسے باہر ہوگیا؟اپوزیشن کا جو حال ہے اور جو باتیں سامنے آرہی ہیں، اس سے اندازہ لگا لیں کہ 10 برس میں کتنے ’مجرم اور ڈاکو‘ ہمارے اوپر مسلط رہے ہیں اور پیسہ بنایا گیا؟ جب ان سے اس بارے میں پوچھیں تو جمہوریت کو خطرہ ہوجاتا ہے لیکن نہ جمہوریت خطرے میں ہے اور نہ ہی اسلام کو کوئی خطرہ ہے، اگر خطرے میں کوئی ہے تو وہ یہ ’ڈاکو‘ ہیں، ہم نے پاکستان کو بہت طاقتور ملک بنانا ہے اور اسے روشن مستقبل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انتہائی موثر طریقے سے پاکستان میں شدت پسند تنظیموں پر قابو پایا ہے، جہاں طاقت کی ضرورت تھی وہاں اس کا استعمال کیا، جہاں گفتگو کی ضرورت تھی اس جگہ مسائل کو گفتگو سے حل کیا۔دہشت گردی کے واقعات پر ان کا کہنا تھا کہ یہ جو ایک، 2 واقعات ہورہے ہیں ان کا سرا پاکستان سے باہر سے ملتا ہے، تاہم کوئٹہ جیسے واقعات ہمارا راستہ نہیں روک سکتے، ہم طاقتور پاکستان کی بنیاد رکھ چکے ہیں اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔فاٹا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں لوگوں نے وہ ظلم و جبر سہا ہے ،وزیر اعظم نے یہاں کے لئے خصوصی پیکج میں 100 ارب روپے سالانہ خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے، اس پیکج میں وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا نے اپنا حصہ کاٹ کر فاٹا کو دیا ہے کیونکہ ہم ان کے درد محسوس کرتے ہیں، اسی طرح بلوچستان ہماری ترجیحات میں شامل ہے،پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو فاٹا کے لیے اسمبلی میں بات کرتے تھے لیکن جب پیسے دینے اور موثر کردار ادا کرنے کی بات آئی تو پیپلز پارٹی نے فاٹا کے علاقے سے سوتیلے پن کا سلوک روا رکھا اور اپنا حصہ دینے سے انکار کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں