126

مچھروں سے بچنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ سامنے آگیا

مچھر کسی بھی ماحول میں موجود ہوسکتے ہیں،شدید ٹھنڈے پانی میں بھی اس مخلوق کی موجود گی ممکن ہو سکتی ہے ، موسم گرما کے ساتھ ہی جب مچھرکے کاٹنے کاسیز ن بھی آگیا ہے تو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہے کہ اس موذی مخلوق سے بچنے کیلئے روایتی طریقے استعمال کیاجائے یا جدید الیکٹرک طریقہ استعمال کیا جائے ، مچھروں سے گھر کے اندر اور گھر سے باہربچاو کیلئے کیا طریقہ بہتر ہو سکتاہے ، اب لمبے بازوں والی قمیض مزید پہنے کی ضروت نہیں جیسا کہ خبروں میں اکثر اوقات آتا ہے۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اس موذی مخلوق کے کاٹنے سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔ مچھر اتنے انسانوں کو ماردیتاہے کہ جتنے قتل بھی نہیں ہوتے ، ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال پچاس ہزار اموات مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے ہونیوالی ملیریا کی بیماری سے ہوتی ہیں ، 2018میں 2088ڈینگی کے کیسز صرف صوبہ سندھ میں رپورٹ ہوئے تھے ، اس لئے اس موذی مخلوق کی طاقت کا غلط اندازہ نہیں لگایا جاناچاہئے جس کے کاٹنے سے انسانی زندگی کو حقیقی خطرات میں ڈالنے والی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ، جیسے ملیریا اور ڈینگی وغیرہ۔

بچوں مچھروں کا آسان ترین حدف ہیں ، خاص طور پر دیہات میں جہاں مچھروں سے بچاوکیلئے کوئی خاص حفاظتی تدابیر نہیں اختیار کی جاتیں،پاکستان ملیریاجیسے موذی مرض سے متاثرہ دنیا کے 22ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے۔

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ مچھروں کو بھگانے کے روایتی طریقے جیسے کمروں میں کوائل وغیر جلانا ، ان طریقوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے اثرات کے نقصان دہ ہوسکتے ہیں ، خاص کر بچے اور دمہ کے مریض اس دھوئیں سے متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ یہ طریقے غیر محفوظ بھی جیسے کوائل کو جلانے کیلئے ماچس یا لائٹر کی ضرورت ہوتی ہے ،یہ خصوصی طور پر بچوں کے لئے بہترطریقہ نہیں ہے جبکہ کسی بڑے کی نگرانی میں ہی مچھروں کو بھگانے کیلئے کوائل جلائی جاسکتی ہے۔

اس لئے مچھر کے موذی ڈنگ سے بچنے کیلئے نیا اورجدید طریقہ مورٹین ایل ای ڈی لائٹ ہے ، یہ ایک خوبصورت ایجاد ہے جو محفوظ اور پر سہولت بھی ہے ، صرف اس کا پلگ ساکٹ میں لگائیں اور مچھر کے کاٹنے کی فکر سے آزاد ہوجائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں