123

”یہ ایک قانون میری سمجھ میں بھی نہیں آتا “ جسٹس آصف سعید کھوسہ

معزز چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ” ال لیگل ڈسپوزیشن ایکٹ “ 2005 میں بنایا گیا ، اگر آپ مجھ سے پوچھیں یہ کیسا قانون ہے تو میں اعتراف کرتا ہوں کہ آج بھی مجھے اس قانون کی سمجھ نہیں آتی ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہناتھا کہ ہمارے پاس سول اور کریمنل کورٹس ہیں جو کہ ” ڈسپوزیشن “ کو ڈیل کر رہی ہیں اور سزائیں دی جارہی ہیں لیکن اچانک یہ قانون آجاتا ہے جوکہ نہ تو سول ہے اور نہ ہی کریمنل ، ایس ایچ او کی رپورٹس پر پراپرٹی کے جھگڑے سلجھائے جارہے ہیں ، اب پولیس رپورٹس پارٹیوں کے حقوق کا فیصلہ کریں گی ، مجھے اس قانون کی سمجھ نہیں آتی ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سات رکنی بینچ قائم کیا کہ وہ اس قانون کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ کہاں پر لاگو ہوتا ہے لیکن تمام نے بحث کے بعد اپنے ہاتھ کھڑے کر دیئے اور کہا کہ ہم اس قانون کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں ، ہم نے اٹارنی جنرل سے درخواست کی کہ وہ حکومت کو اس کے بارے میں بتائیں، اس میں اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیاہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہناتھا کہ ہمارے پاس سول اور کریمنل کورٹس ہیں جو کہ ” ڈسپوزیشن “ کو ڈیل کر رہی ہیں اور سزائیں دی جارہی ہیں لیکن اچانک یہ قانون آجاتا ہے جوکہ نہ تو سول ہے اور نہ ہی کریمنل ، ایس ایچ او کی رپورٹس پر پراپرٹی کے جھگڑے سلجھائے جارہے ہیں ، اب پولیس رپورٹس پارٹیوں کے حقوق کا فیصلہ کریں گی ، مجھے اس قانون کی سمجھ نہیں آتی ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سات رکنی بینچ قائم کیا کہ وہ اس قانون کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ کہاں پر لاگو ہوتا ہے لیکن تمام نے بحث کے بعد اپنے ہاتھ کھڑے کر دیئے اور کہا کہ ہم اس قانون کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں ، ہم نے اٹارنی جنرل سے درخواست کی کہ وہ حکومت کو اس کے بارے میں بتائیں، اس میں اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیاہے ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمیں ” پری ایمپشن ایکٹ “ کی ضرورت ہے ؟ میرے خیال میں یہ ماضی کا قصہ ہے ، صدیوں پر انی بات ہے ، قبائلی لوگ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی باہر سے آئے اور ان کی زمین پر رہے ، میرے خیال میں اب اسے قانون کا حصہ نہیں ہونا چاہیے ، اب آزادی ہے اور بنیادی حق ہے کہ آپ زمین خریدیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں