54

بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمینٹ کی ترجیحات میں نہیں: چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں ہے لہٰذا پارلیمینٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔مقدما ت کا التوا ختم کرنے کیلئے ہرممکن اقدام کر رہے ہیں، ماڈل کورٹس مشن کے تحت قائم کی گئی تھیں اس لئے تجویز ہے کہ ماڈل کورٹس میں عدالتی عمل تیز کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمینٹ کی ترجیحات میں نہیں ہے اور جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کیلئے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں نہیں کیا گیا، جب سے جج بنا ہوں،میرا مقصد فوری انصاف کی فراہمی رہا ہے اور یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوری انصاف کیلئے مقدمات کی رپورٹس کو پیش کرنا ضروری ہے اور کیمیکل ایگزامینراور فرانزک اتھارٹیزکی رپورٹس کو مقررہ مدت پرپیش کرنے کو بھی یقینی بنانا ہو گا جبکہ ملزمان کی عدالت حاضری یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماڈل کورٹس کا قیام ایک مشن کے تحت کیا گیا جس کا مقصد فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اور آئین کے آرٹیکل 37 ڈی پر عملدرآمد کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹ کا مقصد التواءکاباعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے اور تجویز ہے کہ ماڈل کورٹس میں عدالتی عمل کو تیز کیا جائے جبکہ جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدموں کیلئے وقت مقرر کیا جائے جائے گا۔ مقدمات کاوقت مقرر کرنے سے انصاف کاحصول آسان ہو گا، مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل انتظام کیا جائے گا اور وسی وجہ سے وکیل کے پیش نہ ہونے پر جونیئر کو مقرر کیا جائے گا، پولیس کو بھی مقدمے کی فوری تحقیقات کر کے چالان پیش کرنا چاہئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقدمے کے فیصلوں کیلئے وقت مقرر کیا جاتا ہے اور امریکہ و برطانیہ کی سپریم کورٹ سال میں 100مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک سال میں 26ہزار مقدمات کے فیصلے کئے جبکہ پاکستان کی عدلیہ کے 3 ہزار ججز نے گزشتہ سال 34لاکھ مقدمات کے فیصلے کئے۔

انہوں نے کہا کہ وراثتی سرٹیفکیٹ کیلئے عدالتوں کے بجائے نادرا کا نظام اپنانے کی ضرورت ہے ، متنازعہ معاملات اور وراثتی مقدمات کیلئے نظام کو آسان بنایا جا رہا ہے اور اب خاندانی اور وارثتی مسائل عدالت کے بجائے نادرا میں حل ہو سکیں گے ۔ ان کاکہنا تھاکہ عدالتی قوانین واضح ہیں بس انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے، انسداد دہشت گردی ایکٹ سمجھنے کیلئے قانون میں تعارف موجود ہے، قوانین میں ابہام دور کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سے رائے مانگی جاتی ہے، ملکی قوانین میں انسانی حقوق کو مد نظر رکھاجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں