99

میرٹ کے بالادستی آزادکشمیر میں ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی

میرٹ کے بالادستی آزادکشمیر میں ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی،سینارٹی، ٹیلنٹ اور میرٹ کے حوالے سے آزادکشمیر بھر کے محکموں کی تباہ کن صورت حال اربابِ اقتدار کے لیے لمحہ فکریہ سے کم نہیں،طاقتور اشرافیہ، سفارشی کلچر کے ذریعے میرٹ کا قتل عام کر رہی ہے، وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر اور صدر ریاست سردار مسعود خان کے میرٹ کی بالادستی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،اہم انتظامی پوسٹوں پر تقرری اور تبادلے سنگین مذاق اختیار کر گئے ہیں،دیگر کئی محکموں کی طرح محکمہ صحت عامہ آزاد کشمیر میں ڈی جی ہیلتھ کی تعیناتی تعطل کا شکار ہو گئی ہے جس سے حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

آزاد ریاست جموں و کشمیر کے دوسرے سب سے بڑے اور اہم محکمے میں میرٹ کا قتل عام کر کے محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور تبدیلیوں کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی،روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد کو صحت عامہ کی سہولیات بہم پہنچانے والا آزاد کشمیر کا دوسرا بڑا اور اہم محکمہ کئی ماہ سے میدان جنگ بنا ہوا ہے،محکمہ صحت عامہ آزاد کشمیر میں انتشار اور بدانتظامی کے خواہش مندوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اقتدار کے ایوانوں پر براجمان طاقت ور اشرافیہ اپنے من پسند افراد کی پروموشن اور ترقی کے لیے دوڑ میں لگے ہوئے ہیں،میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومتی سطح پر انتظامی کیڈر کی پوسٹ پر ریاستی اسمبلی کے ممبرز کے خاندان کے افراد اور دوستوں کو برادری ازم اور دوستی کی بنیاد پر پروموٹ کرنے کی سارش کی جا رہی ہے۔

کئی طاقتور حکومتی وزیر روایتی سیاسی انداز میں اپنے پسندیدہ افراد کو میرٹ کو پامال کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بنوانے کے چکر اس اہم ادارے کو تباہ کرنے میں مگن ہیں۔ رولز کے مطابق محکمے کا سربراہ سیکرٹری ہیلتھ ہوتا ہے جس کا تقرر وفاقی حکومت کی جانب سے ہوتا ہے۔ سپیشل سیکرٹری ہیلتھ ڈی ایم جی سیکرٹریٹ گروپ سے نامزد کردہ ہوتا ہے جبکہ میرٹ کے قواعد وضوابط اور محکمانہ رولز کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی پوزیشن مینجمنٹ کیڈر کا سینئر ترین ڈاکٹر سنبھالتا ہے۔

آزاد کشمیر کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 24 دسمبر 2018 کو جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق صدر ریاست سردار مسعود خان نے آزاد جموں و کشمیر سول سروس ایکٹ 1976ء کی دفعہ 7(2) کی روشنی میں ایڈمن کیڈر آفیسران محکمہ صحت عامہ کے مابین حتمی سنیارٹی فہرست جاری کیے جانے کی منظوری صادر فرمائی تھی۔

اس فہرست کے مطابق ڈاکٹر ارشد محمود سینئر ترین ڈاکٹر ہونے کے ناطے محکمہ صحت عامہ کی ذمہ داریاں اپنی مدت ملازمت کے اختتام تک نبھاتے رہے اور 29 مارچ 2019 ء کو ریٹائر ہوئے ۔ اس سے پہلے حکومت کا عمومی رویہ یہ رہا ہے کہ محکمہ صحت عامہ میں ’’کام چلاؤ پالیسی‘‘ کے تحت عارضی نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈی جی ہیلتھ کی تعییناتی عمل میں لائی جاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق 29 مارچ2019 ء کو سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر ارشد محمود کی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت یہ عارضی نوٹیفکیشن کرنے میں بھی ناکام ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت عامہ آزادکشمیر میں میرٹ کی بنیاد پر تقرر شدہ سینئر ترین انتظامی آفیسر کی بجائے محکمہ صحت عامہ کے رول کی دھجیاں بکھرنے کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق سیاسی اشرافیہ کہ ملی بھگت سے ایڈمن کیڈر کو ختم کر کے بطور ڈی جی ہیلتھ من پسند ڈاکٹرز کے لیے راہیں ہموار کرنے کے لیے محکمانہ رولز میں بھی تبدیلی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہیں،اگر ایسا ہو جاتا ہے تواس طرح کے کسی بھی فیصلے سے ایڈمن کیڈر کے 60سے زائد ڈاکٹرز کا مستقبل داؤ پر لگنے کا اندیشہ ہے۔

واضح رہے کہ محکمانہ رولز کے مطابق کسی دوسرے کیڈر سے ٹرانسفر کی صورت میں 19 گریڈ کے کسی بھی افسر کو نئے کیڈر میں 18 ویں گریڈ سے ملازمت کا دوبارہ آغاز کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دو سال سے ایڈمن کیڈر کی چاروں پوسٹوں پر کوئی ترقی نہیں ہوئی،متعدد بار سیلکشن بورڈ کو سیاسی اشرافیہ کی مداخلت پر روکا جانا بھی حکومتی کار کردگی پر سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں