55

کرپشن الزامات ثابت ہونےپرسیشن جج نوشہرہ ملازمت سےفارغ

پشاور ہائیکورٹ نے سیشن جج نوشہرہ کو ملازمت سے فارغ کردیا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج پر کرپشن کے الزامات تھے، کمیٹی نے انکوائری کے بعد الزامات ثابت ہونے پر جج کو برخاست کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے کرپشن کے الزام ثابت ہونے پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نوشہرہ کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے۔

عدالت کی جانب سے سیشن جج کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نوشہرہ زاہد محمود پر کرپشن کے الزامات تھے۔ جس پر سیشن جج کی انکوائری کیلئے پشاور ہائیکورٹ نے کمیٹی تشکیل دی۔ پشاور ہائیکورٹ کی انکوائری کمیٹی نے مئوقف سننے اور حقائق جانچنے کے بعد سیشن جج کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا۔
اعلامیہ پشاور ہائیکورٹ کے مطابق انکوائری کمیٹی نے برخاست ہونے والے سیشن جج کو صفائی کا پورا موقع فراہم کیا تھا۔

واضح رہے پاکستان میں کرپشن کے خلاف احتساب کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ سیاستدانوں اور حکومتی وزراء سمیت تمام شعبوں سے وابستہ افسران کے خلاف کرپشن کیسز میں انکوائریاں جاری ہیں۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس فرخ عرفان نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جسٹس فرخ عرفان پر الزام ہے کہ انہوں نے آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ جس پر انہوں نے اپنا استعفیٰ صدرمملکت پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ جسٹس فرخ کا نام پاناما پیپرز تھا،ان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کیس زیرسماعت ہے۔ واضح رہے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان خان سینئر جج ہیں، آپ نے 20فروری 2010ء میں بطور جسٹس لاہور ہائیکورٹ حلف اٹھایا تھا، تاہم جسٹس فرخ عرفان کی ریٹائرمنٹ کی مدت 22جون 2020ء کو مکمل ہونی تھی۔ لیکن جسٹس فرخ عرفان خان نے تقریباً ایک سال سے زائد مدت ملازمت باقی ہونے کے باوجود اپنا استعفیٰ صدمملکت کو بھجوا دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ جسٹس فرخ عرفان کا نام بھی پاناما پیپرز میں آیا تھا، کہ جسٹس فرخ عرفان کی بھی پاناما میں آف شور کمپنی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں