81

”اگر وہ جنگلا بس تھی تو کیا اسے ہم نالہ بس کہہ سکتے ہیں ؟“ ریحام خان

پشاور کا بی آر ٹی منصوبہ اس وقت موضوع بحث بنا ہواہے اور اس پر پی ٹی آئی کی حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا بھی سامنا ہے جو کہ 2017 میں شروع ہوا اور اس نے چھ مہینے میں مکمل ہونا تھا جو کہ اب تک نہیں ہو سکا ہے ۔

انگریزی اخبار ڈان نیوز نے اپنے پشاور کے میٹرو پیج پر بی آر ٹی منصوبے کی ایک تصویر شائع کی ہے جو کہ اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو تی جارہی ہے ۔ یہ تصویر دراصل پیدل سڑک پار کرنے والوں کیلئے بنایا جانے والے انڈر پاس کی ہے جو کہ مکمل طور پر تیار نہیں ہواہے جبکہ اس انڈر پاس کے عین درمیان سے ایک بڑا سا پائپ گزر رہا ہے جو کہ دراصل گیس کی مین پائپ لائن ہے ۔

یہ تصویر اب وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی جانب سے بھی شیئر کی گئی ہے اور ساتھ پیغام درج کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ” اگر وہ جنگلا بس تھی تو کیا اسے ہم نالہ بس کہہ سکتے ہیں ؟“ ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لاہور میٹر و منصوبے کو جنگلا بس قرار دیا جاتا رہاہے تاہم بعد ازاں تحریک انصاف کی جانب سے بھی پشاور اسی طرز کا منصوبہ شروع کیا گیا جس کی ابتدا میں لاگت 39 ارب روپے رکھی گئی تھی تاہم جو کہ اب 70 ارب سے تجاوز کر چکی ہے اور اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی نے نیب میں تحقیقات کیلئے درخواست بھی جمع کروا دی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں