55

کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی کا کیس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہری حکومت پر کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی کے کیس میں کے الیکٹرک کو لوکل محکموں کی بجلی کاٹنے سے روک دیااور سندھ حکومت کو 5 اقساط میں58 کروڑ واجبات ادا کرنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہری حکومت پرکے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی کے کیس کی سماعت ہوئی،میئر کراچی وسیم اختر نے کہاکہ میں کے الیکٹرک کے بل کی ادائیگی نہیں کر سکتا، میرے پاس تو ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں، وسیم اخترنے کہا کہ کے الیکٹرک نے تو خود ہمارے 7 ارب دینے ہیں،وکیل کے الیکٹرک نے کہا کہ کے ایم سی،سندھ حکومت معاملات خوددیکھے ہمیں واجبات دلوائے جائیں،ہماری بقامشکل میں ہے،ادھارلےکربجلی بنا رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی کھینچاتانی کی وجہ سے شہریوں کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے،واجبات اوراختیارات کی تقسیم کامعاملہ سندھ حکومت اورکے ایم سی خودملکرحل کریں،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کیا شہرکواندھیرے میں ڈبوناچاہتے ہیں؟ ایسے توشہرکی سانس بندہوجائےگی،جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ شہرسے اتناریونیولیتے ہیں کیااس پرخرچ نہیں کرنا؟ہمارے نرم رویے کوسندھ حکومت غیرسنجیدہ نہ لے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایسانہ ہوسندھ حکومت اورکے ایم سی کے اختیارات کاخودجائزہ لیں،عدالت نے شہری حکومت پر کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی کے کیس میں کے الیکٹرک کو لوکل محکموں کی بجلی کاٹنے سے روک دیااور سندھ حکومت کو 5 اقساط میں58 کروڑ واجبات ادا کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے حکم دیا کہ اپریل سے کے ایم سی ماہانہ بل خود ادا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں