58

حرام کے پیسوں میں بہت لذت ہوتی ہے،،چیف جسٹس سند ھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ میں گوداموں سے اربوں روپے کی گندم غائب کرنے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حرام کے پیسوں میں بہت لذت ہوتی ہے،کرپٹ افراد ان پیسوں کو ہی اپنا سکون سمجھتے ہیں،میرے لئے گرمی اور دھوپ میں کام کرنیوالا مزدور پٹھان اور ہاری قابل احترام ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سندھ کے گوداموں سے اربوں روپے کی گندم غائب کرنے سے متعلق کیس میں ملزم زبیر و دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،وکیل ملزمان نے کہا کہ ملزمان طے شدہ رقم حکومت کو واپس کرنا چاہتے ہیں، نیب سود پر سود لگانا چاہتا ہے،سود حرام ہے اس لیے فلورملز مالکان سود نہیں دینا چاہتے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ صرف نقصان کی رقم دے رہے ہیں مارک اپ نہیں دے رہے، چیف جسٹس نے ملزمان کے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو مارک اپ اور تمام رقم واپس کرنا ہوگی،ہم نیب سے کہتے ہیں ان کے نام بھی ظاہر کرے جو فلور ملز کے پیچھے تھے، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ بتائیں نثار کھوڑو کو نیب نے کب سمن جاری کیا؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ نثار کھوڑو اور سیکرٹری فوڈ سجاد عباسی کیخلاف بھی تحقیقات جاری ہیں، عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ پیپلزپارٹی رہنما نثار کھوڑو کےخلاف بھی تحقیقات مکمل کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حرام کے پیسوں میں بہت لذت ہوتی ہے،کرپٹ افراد ان پیسوں کو ہی اپنا سکون سمجھتے ہیں،میرے لئے گرمی اور دھوپ میں کام کرنیوالا مزدور پٹھان اور ہاری قابل احترام ہیں،تاجر مزدوروں کا حق مارتے ہیں اور کبھی اپنی جیب سے پیسا نہیں نکالتے۔

عدالت نے گندم کی رقم کی واپسی کا طریقہ کار طے کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا ہے کہ نیب، بینکرز،فوڈ ڈپارٹمنٹ اور ملزمان کے نمایندے آپس میں معاملات طے کریں،عدالت نے 3 مئی کو فریقین سے رپورٹ طلب کرلی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں