61

سپریم کورٹ نے ریلوے گالف کلب اراضی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے گالف کلب اراضی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ معاہدے کودرست قراردیاتوملزم رہاہوجائیں گے،معاہدے کوغلط قراردیاتو ملزمان کیلئے مشکلات ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ریلوے گالف کلب اراضی کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عظمت سعیدکی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل صفائی نے کہا کہ جوالزامات لگائے گئے وہ نیب کے ریفرنس میں بھی موجودہیں۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ نیب کے ریفرنس میں کتنے ملزمان ہیں؟اس پر وکیل نیب نے کہا کہ ریفرنس میں 14 ملزمان کے نام شامل ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ نیب نے 8 سال تک معاملے میں کچھ نہیں کیا،نیب کے بجائے سپریم کورٹ ہماری درخواست پرفیصلہ کرے۔

عدالت نے کہا کہ ریفرنس دائرہونے پرسپریم کورٹ میں کارروائی مناسب ہوگی؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ معاہدے کودرست قراردیاتوملزم رہاہوجائیں گے،معاہدے کوغلط قراردیاتو ملزمان کیلئے مشکلات ہوں گی،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہمارا وقت ضائع نہ کیا جائے۔وکیل صفائی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے، کسی رکن پارلیمنٹ کو عوام کی پرواہ نہیں۔

دوران سماعت اعتزازاحسن اورجسٹس عظمت سعیدمیں دلچسپ مکالمہ ہوا ،اعتزاز احسن نے کہا کہ آج دلائل کے دوران آپ بہت دیر خاموش رہے، آپ نے آج خاموش رہنے کاریکارڈ قائم کردیا،اعتزاز احسن کی بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،ریلوے نے رائل پام معاہدے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔عدال نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریلوے گالف کلب اراضی کیس کافیصلہ محفوظ کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں