78

اسلام آبادہائیکورٹ کا نومسلم بہنوں کو شوہروں کیساتھ رہنے کی اجازت

اسلام آبادہائیکورٹ نے نومسلم بہنوں کو شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیدی۔عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کلیئر ہو گیا لڑکیاں بالغ ہیں اورزبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں نومسلم بہنوں کی حفاظت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،دونوں بہنوں کی والدہ اور ہندوکمیونٹی کے رہنما رمیش کمار اسلام آبادہائیکورٹ میں پیش ہوئے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی،

سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایاکہ لڑکوں سے آج ہماری ملاقات ہوئی ہے ،یہ زبردستی مذہب تبدیلی کا کیس نہیں لگا،یہ وہاں کے لوکل کلچر کا حصہ بن چکا ہے،سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ سندھ حکومت سے بھی رپورٹ مانگی گئی ہے ،کمشنر اور ڈی آئی جی سکھر نے کمیشن کی معاونت کی،ڈی سی اورحیم یار خان کو بھی بلاکر ہم نے رپورٹ مرتب کی ۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ 9 اپریل کو میڈیکل رپورٹس ملی ہیں ،آسیہ کی عمر 18 اورنادیہ کی 19 سال ہے ،میڈیکل رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کی یہ عمریں ہیں ،سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سارے معاملات صوبوں کو منتقل ہو گئے،یہ زبردستی مذہب تبدیلی نہیں لیکن وہاں کے حالات کے مطابق ہے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اقلیتوں کو شبہ بھی نہ ہو کہ انکے حقوق محفوظ نہیں ،لڑکیوں کے بیان کے بعد کیس کی حسایت کے باعث اس کو آگے چلایا ،کمیشن ارکان بڑی عزت کے حامل لوگ تھے ہمیں ان پر یقین ہے ،کلیئر ہو گیا لڑکیاں بالغ ہیں اورزبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا گیا ۔عدالت نے لڑکیوں کو شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ ٹرائل نہیں عدالت کمیشن کی تجاویزسے متفق ہے ۔

ہندوکمیونٹی کے رہنما اور پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹررمیش کمار روسٹرم پر آگئے،انہوں نے کہا کہ ہندومیرج ایکٹ میری کوششوں کی وجہ سے بنا، عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹرینز اگرعدالت کو کہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تویہ شرمندگی کاباعث ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق سامنے رکھ کر یہ کیس آگے چلایا،عدات نے کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں