73

پاکستان سٹیزن پورٹل پر کسٹمز حکام کے خلاف اہلکاروں کی شکایت

وزیراعظم عمران خان کے شروع کردہ پاکستان سٹیزن پورٹل میں کسٹمز حکام کے خلاف اہلکاروں نے انوکھی شکایت درج کروائی ہے کہ ادارے کے اعلیٰ افسران سپاہیوں سے گھروں پر ذاتی نوعیت کے کام کرواتے ہیں. شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ پاکستان کسٹم کے سپاہی کی تربیت پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ تربیت مکمل کرنے کے بعد ہمیں باوردی چائے بنانے پر لگا دیا گیا.
انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی سپاہیوں کو افسران نے اپنے گھروں پر تعینات کررکھا ہے، جہاں وہ سارا دن افسران کے ذاتی ملازم بن کر خدمات انجام دیتے ہیں.

شکایت کنندگان نے مزید بتایا کہ کسٹم ہاﺅس اسلام آباد کے گریڈ 21 کے افسر کی ذاتی خدمت کے لیے 5 سپاہی مقرر ہیں. انہوں نے بتایا کہ ہمیں وردی پہن کر برتن دھوتے اور کچن میں کام کرتے شرم آتی ہے، خدا کے لیے ہمیں اس ذلت سے نجات دلائی جائے.

پاکستان سٹیزن پورٹل پر یہ شکایت اسلام آباد کسٹم ہاﺅس کے سپاہیوں کی جانب سے درج کرائی گئی ہے‘دوسری جانب ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز اشفاق احمد نے بتایا کہ سپاہیوں سے ذاتی کام کرانے کی کوئی شکایت نہیں ملی، کسٹمز کے پاس سپاہیوں کی تعداد ویسے ہی بہت کم ہے. انہوں نے واضح کیا کہ سپاہیوں کی ڈیوٹی ویئر ہاﺅس یا اس جگہ لگائی جاتی ہے جہاں سامان پکڑا جاتا ہے‘ہمیں کوئی بھی شکایت موصول ہوئی تو فوری کارروائی کریں گے.

13 فروری 2019 کو پاکستان سٹیزن پورٹل ایپ جو گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں وزیر اعظم عمران خان نے متعارف کرائی تھی، کو ورلڈ گورنمنٹ سمٹ (ڈبلیو جی ایس) میں دوسری بہترین سرکاری ایپلی کیشن قرار دے دیا گیا تھا. تاہم پاکستان سٹیزن پورٹل کے بارے میں عام شہریوں کے تحفظات ہیں کہ ان کی شکایات کو اسی محکمے کو بجھوادیا جاتا ہے جس کے خلاف شکایت درج کروائی گئی وہ محکمہ خود ہی فیصلہ کرکے شکایت کو بند کردیتا ہے اس سلسلہ میں کوئی انکوائری نہیں ہوتی یہ پورٹل محض ایک ڈاک خانے کا کام کررہا ہے .

ایک شہری جنہوں نے آزمائش کے لیے پاکستان سٹیزن پورٹل پر مفاد عامہ کی متعدد شکایات درج کروائیں مگر ہرشکایت پر انہیں مایوسی ہوئی کہ ان کی شکایت کو افسرشاہی کے روایتی اندازمیں ”ریلیف گرانٹیڈ“لکھ کر شکایات کو بند کردیا گیا حالانکہ کسی بھی شکایت کے حوالے سے وزیراعظم سیکرٹریٹ یا متعلقہ محکمے کی جانب سے فون نہیں کیا گیا اسی طرح فیڈ بیک کو بند رکھا جارہا ہے تاکہ شکایت کنندگان یہ سوال نہ کرسکیں کہ ریلیف کسے اور کب دیا گیا ہے؟.

انہوں نے بتایا کہ یہ مکمل طور پر وقت اور پیسے کا ضیاع ہے کیونکہ اس پورٹل پر آپ کو صرف شہری حکومتوں سے متعلقہ معاملات صفائی‘آوارہ کتوںکی تلفی‘پولیو کے قطرے اور کوڑے کرکٹ کے بارے میں شکایات پر ہی تھوڑا بہت عملی کام نظر آتا ہے . اس کے علاوہ باقی تمام معاملات یہ پورٹل ناکامی کا ایک شاہکار ہے جس پر قومی حزانے سے پیسہ ضائع کیا جارہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں