74

دیامیربھاشا اورمہمندڈیمزعملدرآمد کیس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے دیامیربھاشا اورمہمندڈیمزعملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران ڈیمزفنڈزمیں موجود رقم کی سرمایہ کاری پرفیصلہ محفوظ کرلیا ،عدالت نے کہا کہ مشاورت کے بعد آج ہی حکم نامہ جاری کیا جائے گا،جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بلاوجہ نیا پنڈوڑا باکس نہ کھولیں، ہم غیر ضروری تنقید بھی برداشت کرتے ہیں،تنقید کرنے اور بدنام کرنے میں بہت فرق ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت واپڈا یا حکومت کی ترجمان نہیں،حکومت اپنے حصے کا کام خود بھی کرے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں دیامیربھاشا اورمہمندڈیمزعملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی،اٹارنی جنرل نے فنڈزکی رقم انویسٹمنٹ بانڈزمیں لگانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ 3سال کیلئے سرمایہ کاری سے 12.2 فیصد منافع ملے گا،چیئرمین واپڈا نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر کا کام ٹائم لائن کے مطابق جاری ہے،غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ڈیڑھ سال بعد پڑے گی،مقامی سرمایہ کاری کی ضرورت 9 ماہ تک پڑے گی،ڈیم فنڈزمیں موجود رقم کی ضرورت 7 سال بعدپیش آئےگی۔

وکیل واپڈا نے کہا کہ اے ڈی بی 500 ملین ڈالرسرمایہ کاری پرآمادہ ہے،سعودی ترقیاتی فنڈز سے 80 ملین ڈالرز کا معاہدہ طے پا گیا ہے، سرمایہ کاری کیلئے چینی حکام سے بھی بات چیت جاری ہے، وکیل واپڈا نے مزید کہا کہ حکومت نے رواں سال کیلئے درکار 17 ارب روپے مختص کردیئے ہیں،ڈیمزتعمیرکیلئے فی الحال فنڈزکامسئلہ نہیں ہے۔

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ مہمندڈیم کیلئے درکار 7800 ایکڑاراضی دسمبرتک حاصل کرلیں گے ،قبائل ڈیم کیلئے زمین دینے پرآمادہ ہیں اورقیمت پربھی اتفاق ہو گیا ہے،کس قبیلے کوکتنی رقم ملنی ہے یہ قبائل طے کریں گے۔

دوران سماعت عدالتی معاون ڈاکٹر پرویزحسن نے ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی استدعا کی ،عدالت نے ڈاکٹر پرویز حسن کی دستبرداری کی استدعا منظور کر لی ۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ بلاوجہ نیا پنڈوڑا باکس نہ کھولیں، ہم غیر ضروری تنقید بھی برداشت کرتے ہیں،تنقید کرنے اور بدنام کرنے میں بہت فرق ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت واپڈا یا حکومت کی ترجمان نہیں،حکومت اپنے حصے کا کام خود بھی کرے،جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ تنقید سے منصوبے نہیں رکتے، عدالت نے ڈیمزفنڈزمیں موجود رقم کی سرمایہ کاری پرفیصلہ محفوظ کرلیا ،عدالت نے کہا کہ مشاورت کے بعد آج ہی حکم نامہ جاری کیا جائے گا،عدالت نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں