60

ریاست لوگوں کو نجی سکولز میں داخلے پر مجبور کرتی ہے،چیف جسٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سکولوں کی فیس میں اضافے سے متعلق کیس کی آئندہ ہفتے سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کافیصلہ کیا ہے عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کردیااور حکومتوں سے مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے اقدامات پر رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اعدادوشمار پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تیارہو کر آئیں اور حساب دیں ،تعلیم بنیاد حق ،جس کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ،ریاست تعلیم کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ریاست خودلوگوں کو نجی سکولز میں داخلے پر مجبور کرتی ہے اورریاست دوسری طرف نجی سکولز کو فیس کے معاملے پرپابند رکھنا چاہتی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سکولوں کی فیس میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی ،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے لاہوراورسندھ ہائیکورٹ کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں ہیں،لاہوراورسندھ ہائیکورٹس نے متعلقہ قوانین کے تحت فیصلے کیے، سندھ اور پنجاب میں الگ الگ قوانین رائج ہیں۔وکیل والدین فیصل صدیقی نے کہا کہ فیس کے تعین کیلئے باضابطہ رولز موجود نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا فیس کا تعین کرنےوالی کمیٹی سہولیات کا بھی جائزہ لیتی ہے؟کیا سکول فیس مقرر کرنے کیلئے رولز موجود ہیں؟

چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ والدین مطمئن ہیں تو آپ عدالت میں کیا کر رہے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے سے والدین مطمئن ہیں،سندھ کے رولز میں 5 فیصد تک فیس بڑھانے کی اجازت ہے، فیس میں اضافہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رولز میں واضح نہیں فیس میں اضافہ سال میں کتنی بار ہوسکتا ہے،جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ سکولز کسی نہ کسی مد میں فیس بڑھاتے ہی رہتے ہیں، کبھی کلب، کبھی ڈیبیٹ سوسائٹی کے نام پر فیس لی جاتی ہے۔

وکیل والدین نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیشن کے قواعد کالعدم قراردیے،سندھ ہائیکورٹ نے ایک اورفیصلے میں ریگولیشن کے قواعد کوقانونی قراردیا، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قواعدکالعدم قرار دینے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کیسے بحال کرسکتی ہے،آئین کاآرٹیکل 18کاروباراورتجارت کی بات کرتاہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاسکولنگ تجارت ہے؟کاروبار ہے؟سمجھنا ہے کہ تعلیم تجارت میں آتی ہے کہ کاروبار میں۔

سپریم کورٹ نے آئندہ ہفتے سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کافیصلہ کیا ہے عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کردیااور حکومتوں سے مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے اقدامات پر رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اعدادوشمار پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تیارہو کر آئیں اور حساب دیں ،تعلیم بنیاد حق ،جس کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ،ریاست تعلیم کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ریاست خودلوگوں کو نجی سکولز میں داخلے پر مجبور کرتی ہے اورریاست دوسری طرف نجی سکولز کو فیس کے معاملے پرپابند رکھنا چاہتی ہے ۔عدالت نے سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں