75

”ہمیں بھی نیب والا یہ اختیار دیا جائے “ ایف آئی اے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس دوران ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی نے کمیٹی کو بریفنگ دی جبکہ اس دوران اینٹی لانڈرنگ قوانین سے متعلق ایف آئی اے نے بھی نیب کے اختیارات مانگ لیے ہیں ۔

ایڈیشنل ڈی جی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون میں بہت خامیاں ہیں ، نتائج نہیں ملتے ہیں ، ریکارڈبروقت نہیں ملتا،تحقیقات التوامیں پڑجاتی ہیں،سرکاری ریکارڈتک رسائی کانیب والااختیارملنا چاہیے ،اینٹی منی لانڈرنگ قانون میں ترامیم ضروری ہیں۔

ایڈیشنل ڈی جی نے کہا کہ نیب کواختیارہے کسی بھی ادارے سے ریکارڈلے سکتاہے۔ کمیٹی نے کہا کہ نیب کے پاس لامحد ود اختیار کا کا لا قانون ہے توکیاآپ کوبھی دےدیں؟کمیٹی اراکین نے کہا کہ طریقہ کارپر عمل کرنے میں کیا قباحت ہے ؟۔

اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بے نامی اور جعلی بینک اکاﺅنٹس کی بھی تشریح کر دی ہے ، ایف آئی اے حکام کا کہناتھا کہ دو طرح کے اکاﺅنٹس ہوتے ہیں ایک جعلی اور دوسرے بے نامی ، کوئی اکاﺅنٹ بے نامی نہیں ہوتا بلکہ کوئی نہ کوئی نام ہوتاہے ،جعلی اکاﺅنٹ یہ ہے کہ بندہ فوت وہ گیا لیکن اکاﺅنٹ چل رہاہے جبکہ بے نامی اکاﺅنٹ کی ٹرانزیکشنز مالک کی آمد ن سے مطابقت نہیں رکھتیں ، ماضی میں بینکوں نے محض 500 کے قریب معاملات رپورٹ کیے ۔

کمیٹی اراکین نے سوال کیا کہ ملوث بینک کیخلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ؟ ایف آئی اے نے بتایا کہ ہر انکوائری میں کم از کم ایک یا دو بینکر ملزم ہوتے ہیں ،کئی بار بینک صدر کو بھی اس میں ملوث پایا گیا ۔ ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے ایف آئی اے کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر صرف پارلیمنٹرینز کے کیسز کا تذکرہ آتا ہے ،ایف آئی اے استعداد کار پر توجہ دے تو نیب کی ضرور ت نہیں ،حسن اور حسین نواز کا کیس مثال ہے ، نیب کو بھاری اخراجات کے ساتھ برطانیہ بھیجا گیا ، نیب برطانیہ میں الزام ثابت ہی نہ کر سکا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں