64

معیشت نااہل حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو تو اندازہ کیاجا سکتا ہے،مولانافضل الرحمان

مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں جعلی حکومت ہے،جو وزیراعظم بنا بیٹھا ہے وہ بھی جعلی ہے، معیشت نااہل حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو تو اندازہ کیاجا سکتا ہے کیاحال ہو گا۔

مولانافضل الرحمان نے نوازشریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کوجب ضمانت نہیں ملی تھی تب بھی ان سے ملنے ارادہ کیا تھا ،فون پر آج کی ملاقات طے پائی تھی ،آج میاں صاحب کی عیادت کےلئے آیا ہوں ،انہو ں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں جب دو رہنما مل بیٹھتے ہیں تو سیاسی بات بھی ہوتی ہے،نواز شریف اور میں نے موجودہ ملکی حالات پر تشویش محسوس کی،مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو نجات دلانے کیلئے بات ہوئی ۔ان کا کہناتھا کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے،اس سے متعلق گفتگو کی گئی، آج کی ملاقات اسی ایجنڈے پر محیط رہی۔جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک میں جعلی حکومت ہے،جو وزیراعظم بنا بیٹھا ہے وہ بھی جعلی ہے،معیشت نااہل حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو تو اندازہ کیاجا سکتا ہے کیاحال ہو گا،انہو ں نے کہا کہ آج یا کل آصف زرداری سے بھی ملاقات کروں گا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب کے حوالے سے ہمیں کچھ سخت فیصلے لینے چاہییں، نیب ایک انتقامی ادارہ جس کو استعمال کیا جا رہا ہے، نیب سے احتساب اور انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

امیر جے یو آئی ف نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے دس ملین مارچ کی تیاری کر لی ہے ،عمران خان اپنے خواب کی سوچیں ہمارے خواب کی فکر نہ کریں ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور ہماری سوچ میں کوئی فرق نہیں ، الیکشن میں مبینہ دھاندلی پرسب ایک پیج پرتھے، نواز شریف بڑے اچھے موڈ میں تھے ، میں بڑے اعتماد سے وہاں سے اٹھا ، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم جعلی اورخلائی قسم کے ہیں ،حکومت مخالف تحریک کیلئے نوازشریف سے حتمی رائے نہیں لی، پارٹی لائحہ عمل سے متعلق فیصلہ نوازشریف نے کرناہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان ہماری فکرچھوڑیں،اپنے خاتمے کی فکرکریں،انہوں نے کہا کہ ملک میں عمران خان کی حکومت نہیں ان کے پیچھے کی طاقتیں کب تک انہیں کھینچتی ہیں یہ دیکھنا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں