69

امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرلیا

جنرل میکنزی کے دورہ پاکستان کے بعد امریکی سفارتخانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے ۔

دنیا نیوز کے مطابق امریکی سفارتخانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ کمانڈر سینٹ کام جنرل میکنزی نے پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت سے ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے خطے کی سلامتی واستحکام کیلئے امریکی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جنرل میکنزی نے کمانڈر سینٹ کام بننے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ کیا جس میں انہوں نے اعلیٰ پاکستانی سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔جنرل میکنزی وزیراعظم عمران خان، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سیکرٹری خارجہ سے ملے جبکہ انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں جنرل میکنزی نے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لئے امریکی عزم دہرایا۔ کمانڈر سینٹ کام نے افغان امن مذاکرات میں پاکستانی کردار پر بات کی۔ جنرل میکنزی کو کالعدم تنظیموں کیخلاف حالیہ حکومتی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم سے امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی نے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، وزیردفاع پرویز خٹک اورسیکریٹری خارجہ تحمینہ جنجوعہ بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ملاقات میں خطے کی جیو سٹریٹجک صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاک بھارت کشیدگی پربات چیت کے دوران وزیراعظم نے امن کیلئے اٹھائے گئے حالیہ پاکستانی اقدامات پر روشنی ڈالی اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قربانیوں اورکامیابیوں سے جنرل میکنزی کو آگاہی دی۔

قبل ازیں امریکی کمانڈر نے پاکستان بحریہ کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی سے بین الاقوامی پانیوں میں قزاقی کے تدارک کیلئے پاکستانی اقدامات اور باہمی تعاون کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل کنتھ میکنزی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال ، افغان امن اور پاک بھارت کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں