62

بھارت 16 سے 20 اپریل تک کارروائی کرسکتا ہے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ٹھوس انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ بھارت سولہ سے بیس اپریل تک بھارت کارروائی کرسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کے آغاز پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سےمتعلق موضوع پربات کرناچاہتاہوں،قومی سلامتی کامعاملہ بہت سنجیدہ ہے۔14فروری کوپلواماکاواقعہ رونماہوا،پلواماواقعےکےبعدبھارت کارویہ سب نےدیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نےپاکستان کوموردالزام ٹھہرانےکی کوشش کی،بھارت نےپاکستان پرانگلیاں اٹھائیں، الزامات کی بوچھاڑکی۔ اس کے برعکس پاکستان کارویہ سب کے سامنے ہے،بھارت کشیدگی بڑھاتارہااورپاکستان کم کرنےکےاقدامات کرتارہا۔ بھارت کی جانب سے جنگی کیفیت کو ہوا دی گئی اور پورےخطےکےامن واستحکام کومتاثر کیاگیا۔ پاکستان کو اس معاملےپرکل بھی تشویش تھی اور آج بھی ہے-

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پی 5ملکوں کےسفیروں کواسلام آبادطلب کرنےکافیصلہ کیا ہے ،پانچوں سفیروں کودعوت دی،اپنی تشویش سےآگاہ کیا ہے ۔ ہم چاہتےہیں کہ عالمی برادری بھارت کےغیرذمہ دار رویےکانوٹس لے، اور بھارت کو تنبیہ کرےکہ وہ اس راستےپرنہ چلے۔

ان کا کہنا تھا کہ 26فروری کوبھارت نےپاکستان کے خلاف جارحیت کرتے ہوئے 1971کےبعد پہلی بارایل اوسی کوعبور کیا۔ بھارت کی اس کارروائی پرذمےدارممالک یہ جانتے ہوئے بھی خاموش رہے کہ بھارت کی یہ حرکت یو این چارٹرڈ کی خلاف ورزی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مستند انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ بھارت ایک نیا منصوبہ تیارکررہاہے،بھارت کی جانب سےپلاننگ کی جارہی ہے،اطلاع کےمطابق16سے20اپریل تک بھارت کارروائی کرسکتاہے۔مقبوضہ کشمیرمیں پلواما جیساواقعہ رونماکیاجاسکتاہے،مقصدیہ ہوگاکہ پاکستان پرسفارتی دباؤ بڑھایاجائے۔بھارت کی جانب سےخطرناک کھیل کھیلاجارہاہے-

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوانکشاف کرنےجارہاہوں اس کوماضی سےجوڑیں تواحساس ہوگاکہ مودی سرکارنےسیاسی مقاصد کیلئےالیکشن میں خطےکےامن کوداؤپرلگایا ہے اور بھارتی میڈیا نے بھی اس چیز کو رپورٹ کیا۔

انہوں نے ایک با ر پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پہلےبھی اور آج بھی کشمیرکی سیاسی جدوجہدکوسراہتاہے ،پاکستان ہمیشہ سے کشمیریوں کاساتھ دیتارہاہےاوردیتا رہےگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہکشمیرکےمعاملےپرپاکستان کےساتھ پرکسی کوحیرت نہیں ہونی چاہیے۔ دنیانےدیکھا ہے کہ بھارت کےپروپیگنڈےکی قلعی کھل گئی ہے،عالمی میڈیا نےبھارت کےپروپیگنڈےکوبےنقاب کیا ہے-

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کو لوٹانے کا مقصد امن کا پیغام اور کشیدگی کم کرنا تھا، ہم نہیں چاہتے کہ بھارت کی جانب سے ایسی حماقت دوبارہ دہرائی جائے، پاکستان کل بھی امن کا داعی تھا اور آج بھی ہے، پاکستان نے رواں ماہ 360 بھارتی قیدی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی گنا شدت آئی ہے، جبر اور تشدد بڑھا ہے اور عالمی برادری کو اسے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے-

اپنا تبصرہ بھیجیں