123

ڈاکٹر طاہرالقادری او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے لاہور سے ریاض سعودی عرب کیلئے روانہ،ڈاکٹر طاہرالقادری او آئی سی کے اجلاس میں کاؤنٹر ٹیررازم پر خطاب کرینگے اور عالم اسلام کی طرف سے انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے متفقہ لائحہ عمل اور نصاب تیار کرنے سے متعلق تجاویز دیں گے، ڈاکٹر طاہرالقادری کو او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر مدعوکیا گیا ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری کے خطاب اور سوال و جواب کیلئے خصوصی سیشن رکھا گیا ہے، او آئی سی کا اجلاس 9اور10اپریل کو ریاض میں منعقد ہورہا ہے۔

ترجمان کے مطابق قائد تحریک منہاج القرآن نے کاؤنٹر ٹیررازم اور ’’پیس کریکلم‘‘ کے حوالے سے مزید تین کتب تحریر کی ہیں جو اجلاس میں شریک او آئی سی کے ممبر ممالک کے مندوبین کو مطالعہ کیلئے پیش کی جائینگی۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے 2010 ء میں انسداد دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کے خلاف 600 صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ دیا تھا جس کا اب تک دنیا کی 13زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اسے یورپ اور سنٹرل ایشیا میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔مذکورہ کتاب میں اسلام پر متشدد دین ہونے کا الزام لگانے والوں کو موثر دلائل اور قرآن و سنت کی روشنی میں ثابت کیا کہ اسلام ایک پرامن دین ہے اور اسلام میں بے گناہ کی جان لینا حرام ہے ، ریاست کی اجازت کے بغیر کوئی فرد یا جماعت ہتھیار نہیں اٹھا سکتی، جہاد کے اعلان کا حق صرف ریاست کو ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے فروغ امن اور انسداد دہشتگردی کے موضوع پر انگریزی، عربی اور اردو میں اب تک 40سے زائد کتب تحریر کی ہیں اور او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے اسی موضوع پر مزید 3کتب تحریر کی ہیں جن کی تقریب رونمائی او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر ہوگی۔

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری 1999 ء سے اسلام کے پرامن پیغام اور انتہا پسندی سے پاک تشخص کو دنیا بھر میں مختلف بین الاقوامی کانفرنسز کے انعقاد کے ذریعے اجاگر کررہے ہیں،انہوں نے اس عنوان کے تحت ناروے، لندن، گلوسگو سمیت یورپ کے کئی ممالک میں کانفرنسز سے خطاب کیا اور امن کی اہمیت اجاگر کی، ڈاکٹر طاہرالقادری کی فروغ امن ،علمی کاوشوں اور دہشت گردی کے خلاف دو ٹوک نکتہ نظر رکھنے پر او آئی سی نے انہیں خطاب کی خصوصی دعوت دی ہے۔ ترجمان کے مطابق ڈاکٹر طاہرالقادری او آئی سی کے اجلا س میں100صفحات پر مشتمل اپنی امن فلاسفی پیش کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں