70

کیا مزید قرضے لینا ٹھیک ہوگا ؟؟؟

آئی ایم ایف کے مشن چیف ارنسٹو ریمریز نےمارچ کےآواخر میں پاکستان کادورہ کیاتھا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر خزانہ اسد عمر سے اہم ملاقات کی۔ آئی ایم ایف کے وفد نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایکسچینج ریٹ پالیسی پر بھی مذاکرات کیے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کےباعث ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر 50 .141روپے تک پہنچا اور آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد 150تک پہنچنے کا امکان ہے۔ سونے کی قیمت مجموعی طور پر 1650 روپے بڑھ کر 72200 روپے فی تولہ اور 1415روپے بڑھ کر 61900 روپے فی10 گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ۔ پیٹرولیم مصنوعات , بجلی , گیس ادویات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہواہے۔

موجودہ حکومت کو مئی میں ہرصورت 9 ارب ڈالر قرض کی مد میں جبکہ 2 ارب ڈالرزسود کی مد میں ادا کرنے ہیں،جس کی وجہ سے حکومت نے آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینے کا فیصلہ کیا۔ یادرہے کہ جب بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں جتنی کمی واقع ہوتی ہے,غیر ملکی قرضوں کا حجم اسی تناسب سے خودبخود بڑھ جاتا ہے،جس کی وجہ سے پاکستان کا بیرونی قرضہ 90 ارب ڈالر سے بڑھ 105ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےمگر آئی ایم ایف کا بیل آوٹ پیکج ہمارے اقتصادی مسائل حل کرنے میں کس حد تک معاون ثابت ہوگا؟؟؟ کیونکہ پاکستان کو آئندہ 5برس کے دوران غیرملکی قرضوں کی مد میں 35 ارب ڈالر جبکہ سود کی مد میں 6ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ سٹیٹ بینک ,محکمہ شماریات اور ایشائی ترقیاتی بینک نے رواں سال پاکستانی معیشت کے حوالے سے پریشان کن اعدادوشمارپر مبنی رپورٹس جاری کی ہیں مگر سوال یہ ہےکہ کیا پی ٹی آئی کو صورتحال کا ادراک نہیں تھا؟ کیا حکومت نے برسراقتدار آنے سے قبل کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا؟ یہ ہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کو انتخابی وعدوں کے برخلاف آئی ایم ایف کے پاس جاناپڑا کیونکہ پی ٹی آئی کے برسراقتدار آنے سے لے کر اب تک اربوں روپے کے جو کرنسی نوٹ چھاپے گئےوہ پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

وزیراعظم ملائیشیا ڈاکٹر مہاتیر بن محمد حال ہی میں دورۂ پاکستان پر تشریف لائے تھے،ان کا آئی ایم ایف کے پروگرامز کے متعلق مئوقف ہماری آنکھیں کھولنے کےلیے کافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ” ہمیں عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے تجاویز مل رہی تھیں،اگر ہم انہیں تسلیم کرلیتے توہمارے حالات مزید خراب ہوجاتےمگر ہم تو صرف اپنا غیرملکی قرضہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اگر ہم آئی ایم ایف سے مزید قرض لے کر قرض اتارتے تو یہ کوئی حل نہیں تھا،اس کا حل ہم نے یہ تلاش کیا کہ ہم نے ایکسچینج ریٹ کو فکس کردیا کیونکہ ہم نے اندازہ لگایا کہ انہوں نے ہماری کرنسی کو مارکیٹ میں بیچ کر اس کی قدر کو کم کرنا تھا ، چنانچہ انہوں نے ہماری کرنسی کو بہت بڑی مقدار میں بیچنا شروع کردیا۔ جب رسد زیادہ ہوتو قدر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ چنانچہ ہماری کرنسی گر رہی تھی , جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوتاہے۔ اس عمل کو روکنے کےلیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ان کی طرف سے کسی قسم کی گراوٹ قبول نہیں کریں گے۔ چنانچہ ہم نے ایکسچینج ریٹ فکس کردیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ہماری کرنسی کو ضائع نہ کرسکے”۔

یہ وہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ہیں , جنہیں عمران خان بہت آئیڈیل سمجھتے ہیں مگر لگتا ہے کہ تبدیلی سرکار نے ڈاکٹر مہاتیر محمد سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ دیکھ لیجیئے ڈالر کی قدر بڑھنے کے نتیجے میں روپے کی جنتی قدر کم ہوئی , ہمارے قرضے اسی تناسب سے بڑھ گئے , مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا , غریب کا عرصۂ حیات مزید تنگ ہوا۔ خدارا !!! ہوش کے ناخن لیجئے قرضے اور سود کی اقساط ادا کرنے کےلپے مزید قرض لینا کوئی حل نہیں ہے،یہ ایک نہ ختم ہونے والا چکر ہے اور پی ٹی آئی بخوشی اس دلدل میں پھنس گئی ہےجبکہ ماضی میں وزیراعظم عمران خان تقریباً اپنے ہر انتخابی جلسے میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سودی قرضوں کو معاشی بحران کی وجہ بتاتے اور قوم سے آئندہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مزید قرضے نہ لینے کے وعدے کرتے رہے جو کہ وفا نہ ہو سکے ۔ بہترہوگاکہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاح , ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے مئوثر اقدامات کرکے اور قومی چوروں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لےکر غیرملکی قرضےاداکیےجائیں ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں