63

حمزہ شہباز کی ضمانت کا آج آخری روز

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی لاہور ہائیکورٹ سے ملنے والی ضمانت کل ختم ہوگی ،نیب حکام گزشتہ روز بھی حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو 8 اپریل تک گرفتار کرنے سے روک دیا تھا،جس کے بعد نیب ٹیم ماڈل ٹاؤن سے واپس روانہ ہوئی تھی، حمزہ شہباز کی طرف سے امجد پرویز ایڈووکیٹ اور صدر لاہور ہائیکورٹ بار حفیظ الرحمن چودهری پیش ہوئے تھے۔

وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ نیب غیر قانونی طور پر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کیلئے پہنچا ہوا ہے، حمزہ کی عبوری ضمانت کی درخواست دائر کر رکهی ہے۔ اگر حمزہ شہباز گرفتار ہوتے ہیں تو عبوری ضمانت کیلئے پیش ہونے کا آئینی حق ختم ہو جائیگا۔

جس پر جسٹس سردار شمیم خان نے حمزہ شہباز شریف کے وکیل کی متفرق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب کو حمزہ شہباز شریف کو 8 اپریل بروز پیر تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست کی سماعت کیلئے دو رکنی بینچ بھی تشکیل دیدیا ہے جو کل کے روز سماعت کرے گا اور اس کیساتھ ہی حمزہ شہباز شریف کو بینچ کے روبرو پیش ہونے کے احکامات بھی دئیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے حمزہ شہباز کی آٹھ اپریل تک ضمانت منظور ہونے کے بعد نیب کی ٹیم ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے کے بعد حمزہ شہباز شریف ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنی رہائشگاہ کی چھت پر آئے اور کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے کارکن نہیں میرا خاندان ہیں۔ نوازشریف اپنی شدید علیل بیوی کو چھوڑ کر قانون کے سامنے پیش ہوئے۔ شہباز شریف اور نواز شریف ک ان کے خلاف سرخرو ہوئے اور ایک پائی کی بھی کرپشن ثابت نہ ہوئی۔ نیازی صاحب سن لو صرف اللہ سے ڈرتا ہوں۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ قوم اور کارکنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بیس سال بعد اللہ نے مجھے اولاد دی اپنی بیٹی کو چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ کورٹ نے چودہ دن کا اجازت نامہ دیا ایک دن پہلے دھرتی پر واپس آیا۔ عدالت نے لکھ کر دیا حمزہ شہبازسب سے زیادہ عدالتوں سے تعاون کررہاہے۔ میرے ساتھ جو سلوک کیا چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، ہم نے مشرف دور کا دس سالہ احتساب بھگتا ہے اور اب بھی بھگتنے کیلئے تیار ہوں-

اپنا تبصرہ بھیجیں