57

بیرون ملک سے ترسیل رقوم کے سلسلہ میں پاکستان کا دوسرا اجلاس

بیرون ملک سے ترسیل زر کے سلسلہ میں پاکستان کی دوسری سالانہ کانفرنس گزشتہ دنوں دبئی میں ہوئی جس میں پاکستانی بینکوں، متحدہ عرب امارات کے مختلف رقوم ٹرانسفر کرنے والے اداروں، بینکنگ کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ماہر بینکاروں اور سفارتخانہ پاکستان برائے یو اے ای کے سفیر معظم احمد خان نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان سے الائیڈ بینک، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک آف پاکستان، یونائیٹڈ بینک اور حبیب بینک لمیٹڈ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ قانونی طریقہ سے پاکستان رقوم بھجوانے کے سلسلہ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ابتدائی اقدام اٹھایا جبکہ متذکرہ بینکوں نے کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ضیاءاعجاز، سہیل شمسی، ویرو نیکاایس نک ڈے، طارق محمود، محمد فراز حیدر اور سید عرفان علی نے لوگوں کو قانونی طریقہ سے رقوم پاکستان منتقل کرنے پر زور دیا۔

اس موقع پر کہا گیا کہ غیر قانونی طریقے سے ترسیل زر کی وجہ سے 8 سے 9ملین ڈالر کا سالانہ نقصان ہوتا ہے لہٰذا غیر قانونی طور پر حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے رقوم بھجوانے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان برائے متحدہ عرب امارات معظم احمد خان نے کہا کہ امارات میں مقیم 16لاکھ پاکستانی 4.5 بلین ڈالر پاکستان بھجواتے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت کو کافی سہارا ملتا ہے۔

سید عرفان علی نے کہا کہ ہم نے لیبر کیمپوں میں جاکر لوگوں کو غیر قانونی طریقہ سے رقوم بھجوانے کی حوصلہ شکنی کی ہے اور انہیں کہا ہے اپنی رقوم جائز طریقہ سے بینکوں کے ذریعے پاکستان بھجوائیں تاکہ پاکستان کی معیشت مزید مستحکم ہو اور ملک کو فائدہ ہو۔ مزید کہا گیا کہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بھجوائی گئی رقوم منی لانڈرنگ کے زمرہ میں آتی ہیں لہٰذا غیر قانونی طریقہ سے رقوم بھجوانے کا سلسلہ ترک کردیا جائے اور جائز و قانونی طریقہ کار ہی اپنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں