72

چوہدری نثار کا حالیہ صورتحال میں وزیراعظم کو مشورہ

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ یہ حکومت الیکشن کرانے والی نہیں ہے،میں نے اقتدار لینے سے انکار کیا جس وجہ سے میرے ساتھ یہ ہوا۔ میں ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو میرے ضمیر پر بوجھ ہو۔ووٹ دینے والے اطمینان رکھیں ان کے ساتھ دو نمبری نہیں ہو گی۔چوہدری نثار نے مزید کہا ہے کہ کبھی صوبائی اسمبلی کے لیے ووٹ نہیں مانگا۔

اس بار بھی لوگوں نے ووٹ دئیے لیکن کیا ہوا، اس کی کبھی وضاحت نہیں کروں گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے نہیں مانا،اس کے بعد مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔مخالف جماعت سے عہدوں کی پیشکش ہوئی لیکن میں نے یہ کام نہیں کیا۔اپنے لوگوں کے بغیر کہے کام کئے۔میر مخالفین سے پوچھیں کہ انہوں نے اپنے حلقے میں کیا کام کیا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مجھ سے پارٹی بدلنے کا گلہ نہیں ہے۔خدمت نہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ اس بات کا شکوہ کیا جاتا ہے کہ علاقے میں فاتحہ خوانی کے لیے کبھی نہیں آیا۔میرا ماننا ہے کہ یہ دعا کا کام ہے سیاست کا نہیں۔ حکومت خود کو احتساب کے عمل سے الگ کرے۔ پاکستان تاریخ کے سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ مزید مہنگائی کے لیے 8ماہ انتظار کر یں۔عمران خان غیر روایتی وزیراعظم بنیں۔

وہ قرض لے کر عوام کو سہانے خواب کیوں دکھا رہے ہیں۔واضح رہے کچھ روز قبل ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے بعد وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہوئی تھی۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وقت اور حالات دیکھ کر مستقبل کا فیصلہ کروں گا۔عام انتخابات کے بعد میرے دوستوں کے ذریعے سے مجھے مختلف اوقات میں وزارت اعلیٰ کے لیے پیشکش ہوئی تھی مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ آزاد حیثیت سے الیکشن جیتنے کے بعد کسی کی تنقید کا نشانہ بنوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں