53

شراب پینے سے انسان کے دماغ میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ شراب انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے تاہم اب سائنسدانوں نے شراب کے عادی افراد کے دماغوں کے سکین کرکے دنیا کو بتا دیا ہے کہ شراب دماغ کے کن حصوں کو تباہ کرتی ہے اور کتنا تباہ کرتی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق جرمنی اور سپین کے سائنسدانوں کی اس مشترکہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شراب پینے سے دماغ کے وہ حصے شدید متاثر ہوتے ہیں جو جذبات، روئیے اور یادداشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ شراب کے عادی افراد کے دماغوں کے سکین میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کے دماغ کے یہ حصے بہت حد تک غیرمتحرک ہو چکے تھے اور ان کے شراب چھوڑنے کے کئی ہفتے بعد بھی ان حصوں میں کوئی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس تحقیق میں سپین کے ’سپینش انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنس‘ اور جرمنی کے سنٹرل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سائنسدانوں نے 126افراد کے دماغوں کے سکین کیے۔ ان میں سے 90شراب کے عادی تھے اور اسی مسئلے کے باعث انہیں ہسپتال داخل کیا گیا تھا جبکہ 36ایسے تھے جو شراب نہیں پیتے تھے۔ جب ان دونوں طرح کے لوگوں کے دماغوں کے سکین کا موازنہ کیا گیا تو ان میں بہت نمایاں فرق سامنے آیا۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سین تیاگو کینلز کا کہنا تھا کہ ”جو لوگ شراب نہیں پیتے تھے ان کے دماغ کے جذبات، روئیے اور یادداشت کو کنٹرول کرنے والے حصے شراب کے عادی افراد کی نسبت کئی گنا زیادہ متحرک تھے۔ ان حصوں کے نام ہیپوکیمپس (Hippocampus)اور ’پری فرنٹل کورٹیکس‘ (Prefrontal Cortex)ہیں جو شراب کے عادی افراد میں تباہ اور بہت حد تک غیرمتحرک ہو چکے تھے۔ ہماری تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک بار شراب کی لت سے دماغ کے ان حصوں کو جو نقصان پہنچتا ہے اسے دوبارہ ٹھیک کرنا ناممکن ہوتا ہے بلکہ بعد میں شراب چھوڑ دینے کے باوجود یہ نقصان شدید تر ہوتا چلا جاتا ہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں