123

عمران خان کا قبائلی علاقے میں جبہ اور باڑہ ڈیم بنانے کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ قبائلی علاقے میں گیس ، بجلی پوری طرح سپلائی کی کوشش کروں گا ، جبہ اور باڑہ ڈیم بنایا جائے گا ،نوجوانوں کیلئے کھیلوں کے گراونڈ بنائے جائیں گے ، تمام صوبے حصہ دیں گے اور 100 ارب روپے دس سال تک قبائلی علاقے کی ترقی کیلئے خرچ ہوا کریں گے ، افغانستان کے لوگوں میری بات سنو،ایک بھائی اپنے تجربے سے دوسرے بھائی کو کہہ رہاہے کہ الیکشن سے امن حاصل کرناہے تو ایسی عبوری حکومت سے الیکشن کروائیں جس کا نتیجہ سب مانیں اور الیکشن کے بعد نتیجہ نہ مانا تو یہی انتشار ہو گا ، نقصان افغانی عوام کاہو گا اور ہمیں تکلیف ہو گی کیونکہ ہم آپ کی بہتری چاہتے ہیں اور آپ کے خیر خواہ ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے جمرود میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی حکومت کو کہاہے کہ طور خم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے ، صوبائی اور وفاقی حکومت کو کہاہے کہ طورخم بارڈر پر پوری طرح سہولتیں پیدا کریں تاکہ لوگوں کو آسانی ہو ۔ عمران خان نے کہا کہ پچھلی بار میں نے افغانستان کو اپنی طرف سے مشورہ دیا تھا کہ وہاں الیکشن سے پہلے ایک نگراں حکومت بنائی جائے تو بہت غصہ لگا مجھے برا بھلا کہا گیا ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ افغانستان کے لوگوں میری بات سنو، یہ یاد رکھیں ہم آپ کو اپنے بھائی سمجھتے ہیں ، میں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کرتاہوں کہ افغانستان کے لوگوں کو امن دے ، جس طرح کی تباہی افغانستان میں چالیس سال سے ہو رہی ہے ، میں انسان ہوں اور اس کے ناطے دعا کرتاہوں کہ اللہ افغانستان کے لوگوں کو امن دے ، میں نے یہ کہا تھا کہ 1977 میں جب پاکستان میں الیکشن ہوا تو اپوزیشن نے الیکشن نہیں مانا ، انتشار ہوا اور پھر مارشل لاءلگا ، ایک بھائی اپنے تجربے سے دوسرے بھائی کو کہہ رہاہے کہ الیکشن سے امن حاصل کرناہے تو ایسی عبوری حکومت سے الیکشن کروائیں جس کا نتیجہ سب مانیں اور الیکشن کے بعد نتیجہ نہ مانا تو یہی انتشار ہو گا ، نقصان افغانی عوام کاہو گا اور ہمیں تکلیف ہو گی کیونکہ ہم آپ کی بہتری چاہتے ہیں اور آپ کے خیر خواہ ہیں ۔وزیراعظم کا کہناتھا کہ امن ہوتا ہے تو سب کا فائدہ ہے اور تجارت ہو گی ، خوشحالی آئے گی، لوگوں کو روزگار ملے گا ، افغانستان کی حکومت آپ کو ایک بھائی والا مشورہ دے رہاہوں اور اگر آپ نے نہیں لینا تو نہ لیں یہ مداخلت تو نہیں ہے یہ تو ایک مشورہ ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا کہ قبائلی علاقے میں پانی کیلئے جبہ ڈیم بنائیں گے جس سے دس لاکھ لوگوں کو پانی ملے گا جبکہ باڑہ ڈیم بھی بنائیں گے جو کہ 17 ہزار ہیکٹر زمین کو سیراب کرے گا ،میں وہ ساری چیزوں کا اعلان کررہاہوں جو میں کر سکتاہوں ، بجلی اور گیس کی کوشش کروں گا کہ پوری طرح سپلائی ملے ۔ ان کا کہناتھا کہ قبائلی علاقے کیلئے ترقیاتی پیکج جس کی منظوری ساری جماعتیں دے چکی ہیں ، سارے صوبے اپنا حصہ دیں گے اور ہر سال ایک سو ارب روپیہ قبائلی علاقے کی ترقی پر اگلے دس سال تک خرچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بھی خوشی ہوئی کہ نوجوانوں نے کہا کہ یونیورسٹی چاہیے ، قبائلی علاقوں کے نوجوان یونیورسٹی اور تھری جی فورجی مانگ رہے ہیں انشااللہ آپ کا بڑا روشن مستقبل ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا کہ قبائلی علاقے میں پڑھائی کیلئے زور لگاناہے اور آپ کیلئے کھیلوں کی گراونڈززیادہ بنانی ہیں تاکہ قبائلی علاقوں کا ٹیلنٹ سامنے لے کر آئیں ، جب میں کرکٹ کھیلتا تھا تب کوئی بھی پختوانخواہ اور قبائلی علاقے سے کھلاڑی نہیں آتے تھے ، آج تقریبا ساری پاکستان کی فرسٹ کلاس ٹیموں میںپختون خواہ سے نوجوان ہیں ۔قبائلی علاقوں میں سپورٹس کیلئے گراونڈ بنائیں گے ۔آپ یہ یاد رکھیں کہ پاکستان اپنے سب سے مشکل معاشی مرحلہ آج ہے ، کبھی بھی اتنے مشکل ملک کے حالات نہیں تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں