80

نیب نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑائیں: حمزہ شہباز

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ایسا محسوس ہوا جیسے ہم دہشت گرد ہیں، ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی کہ میرے گھر پر دھاوا بول دیا گیا؟ نیب نے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑائی ہیں، عمران خان نے چور ڈاکو ڈھونڈنے ہیں تو اپنے اردگرد ڈھونڈیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ ہم لاکھوں ووٹ لے کر آئے ہیں اور عزت ہمیشہ اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں جبکہ میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہو اور پاکستانی قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم سب سے پہلے انسان اور پاکستانی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے اقدام سے خود کو دہشت گرد محسوس کیا کیونکہ جس طرح دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی جاتی ہے، ٹیمیں آ جاتی ہیں اور پھر گھر کا گھیراﺅ کر کے اندر گھسنے کی کوشش کی جاتی ہے، بالکل ویسا کرنے کی کوشش کی گئی، میں ہر مرتبہ بلانے پر نیب میں پیش ہوا تو آج یہ اقدام اٹھانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی، ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی تھی کہ نیب کو یہ اقدام اٹھانا پڑ گیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے شہباز شریف کو صاف پانی میں بلایا اور آشیانہ میں گرفتار کیا جس کے بعد عدالت نے بھی اس اقدام کو بدنیتی قرار دیا۔ میں ایک پاکستانی ہوں اور مجھے کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے، مجھے جب بھی طلب کیا گیا، تمام تر تحفظات کے باوجود نیب میں پیش ہوا اور وہاں پر میرے ساتھ جس طرح کی گفتگو کی جاتی تھی وہ میں آپ کیساتھ کرنا نہیں چاہتا، عدالت نے مجھے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی اور میں قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عدالت سے اجازت ملنے سے ایک دن پہلے تک میں پاکستان کی دھرتی پر تھا۔

حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ آج جمعہ کا مبارک دن ہے اور ایسی کیا قیامت ٹوٹ گئی کہ میرے گھر پر دھاوا بول دیا گیا۔ پاکستانی قوم یہ سن لے کہ سپریم کورٹ نے کہا نیب سیاست زدہ ہو چکی ہے، میڈیا نے بھی اس پر ٹاک شوز کئے جبکہ جس طرح کا تضحیک آمیز سلوک کیا جاتا ہے، اس پر بریگیڈئیر اسد منیر نے خودکشی کر لی، گزشتہ روز اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ آپ ہتھکڑی لگا کر لوگوں کی تضحیک کرتے ہیں، چادر اور چار دیواری کا تقدس ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور کی میٹرو بس ایک کھرب بجٹ کے باوجود کھڈے ہیں اور روز کسی نہ کسی طرح کی کرپشن کا پتہ چلتا ہے لیکن وہ دندنانے پھر رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، گرفتاری تو شہباز شریف اور نواز شریف کی ہوتی ہے اور آج مجھے گرفتار کرنے آئے ہیں، کر لو گرفتار اگر کرنا ہے مگر اس ملک میں کوئی قائدہ قانون بھی ہے، عدالت نے کہا تھا کہ گرفتاری سے 10 دن پہلے بتائیں گے لیکن نیب نے عدالت کے فیصلے کی دھجیاں اڑائیں اور نیب اہلکار سپرمین کی طرح یہاں پہنچے، ان کا کہنا تھا کہ آج جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد کسی بھی عزت دار شخص کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔

رہنماءمسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آج ملک کی صورتحال یہ ہے کہ ریڑھی والے اور کاروباری افراد کیساتھ بھی اسی طرح کا تضحیک آمیز سلوک ہو رہا ہے اور معاشی حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر حلف لئے اور شہباز شریف نے میثاق معیشت پر بات کرنے کو کہا مگر اس کے جواب میں چور اور ڈاکو کہا گیا حالانکہ آشیانہ کیس میں ایک انچ زمین اور ایک پائی بھی قومی خزانے سے ثابت نہیں ہوئی اور شہباز شریف عوام کی نظروں میں سرخرو ہوئے جبکہ نواز شریف کیخلاف فیصلے میں بھی لکھا گیا کہ کرپشن ثابت نہیں ہوئی، عمران خان اپنی کابینہ اور اردگرد چوروں اور ڈاکوﺅں کو ڈھونڈیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں