159

بار بار گرفتار ہوئے، فلموں میں کام ملنا بند ہوا اور پھر آئرن مین بنے

ہالی ووڈ کے سب سے مہنگے ترین اداکار رابرٹ ڈاﺅنی جونیئر ہیں۔ دنیا بھر میں ایک جانا پہچانا نام بننے سے پہلے رابرٹ ڈاﺅنی جونیئر کی زندگی نشیب و فراز سے بھرپور ہے۔

ٹونی سٹارک اور آئرن مین کے نام سے پہچانے جانے والے رابرٹ ڈاﺅنی جونیئر کے والد رابرٹ ڈاﺅنی بھی ایک منجھے ہوئے ہالی ووڈ اداکار اور فلم پروڈیوسر تھے جبکہ ان کی والدہ بھی اداکارہ تھیں۔ 1965 میں پیدا ہونے والے ٹونی سٹارک نے 4 سال کی عمر میں پہلی بار اپنے والد کی فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام کیا۔ جب وہ 8 سال کے ہوئے تو ان کے والد نے انہیں پہلی بار منشیات کا استعمال کرایاجس کے بعد دونوں باپ بیٹا مل کر نشہ کرنے لگے۔

1996 سے 2001 کے دوران رابرٹ ڈاﺅنی جونیئر نشے میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ وہ کئی بار گرفتار ہوئے۔ ان کی نشے کی عادت کی وجہ سے فلمسازوں نے انہیں فلموں میں کاسٹ کرنا چھوڑ دیا۔ جب انہیں فلموں میں کام ملنا بند ہوا تو ان کے دوست اداکار میل گبسن نے آگے بڑھ کر ان کی مدد کی۔ 2003 میں میل گبسن نے ایک فلم ساز کمپنی کو گارنٹی دی کہ اگر رابرٹ ڈاﺅنی جونیئر فلم کی شوٹنگ کے دوران گرفتار ہوگئے تو سارا نقصان میل گبسن ادا کریں گے۔

یہی لمحہ ٹونی سٹارک کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ بن گیا اورانہیں چھوٹی موٹی کامیاب فلمیں ملنا شروع ہوگئیںلیکن 2008 میں جب ان کی آئرن مین ریلیز ہوئی تو وہ دنیا کے مہنگے ترین اور سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے اداکاروں کی صف میں شامل ہوگئے۔ آج رابرٹ ڈاﺅنی جونیئر مارول سٹوڈیوز کی ہیرو لسٹ میں ٹاپ پر نظر آتے ہیں جبکہ وہ مسلسل تین سال تک امریکہ کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے اداکار بھی رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں