80

وہ قانون جسے بلیک میلنگ قراردیدیا گیا ,

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ نادرا کے پاس99فیصد افراد اور ان کے خاندان کا مکمل ڈیٹا موجود ہے ہماری کوشش ہو گی کہ کسی بھی شہری کووراثت اور جانشینی کے لئے عدالتوں میں الجھانے کی بجائے محض نادرا سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا جائیگا تاکہ عوام کو اپنے حق کے لئے کئی سال تک دھکے نہ کھانا پڑیں انہوں نے شفہ کے قانون کو بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ قانون صرف بلیک میلنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے اور کوئی بھی شخص 1فلیٹ پر شفہ دائر کر کے اصل مالک کو بلیک میل کر کے بعد ازاں رقم لے کر دستبردار ہو جاتا ہے میری کوشش ہے کہ اس فرسودہ سسٹم کو مکمل ختم کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے نومنتخب عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کیا۔انہوں نے 22-A اور 22-B کے خاتمے کے فیصلے پر نظر ثانی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری ترمیم کے بعد کوئی ایس پی کسی ایس ایچ او کے خلاف شہری کی درخواست پر 1ہفتے میں فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں کسی مدعی یا شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا پورا حق اور اختیار حاصل ہو گاحالانکہ یہ فیصلہ عدالتوں پر کام کا دبائوکم کرنے کے لئے کیا گیا تھالیکن وکلا نے اس فیصلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔

چیف جسٹس نے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے یقین دلایا کہ عدلیہ میں نئی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویژن کے وکلا کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا بنچ یہاں بیٹھ کر کسی بھی مقدمہ میں لاہور، کراچی اور کوئٹہ سے وکلا کے دلائل اور بحث سن سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے انتقال کے بعدوراثت اور جانشینی کے قانون میں تبدیلی کر کے اسے انتہائی سہل بنایا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ قبل ازیں بار ایسوسی ایشن کے وفد نے چیف جسٹس کو وکلا کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں نئی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویژن کے وکلاکو نظر انداز کیا جارہا ہے اس موقع پر وفد نے چیف جسٹس کو 22-Aاور22-Bسمیت دیگر تحفظات سے تفصیلی آگاہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں