71

ٹیلیفون انڈسٹریز پاکستان بھی ہمارے لئے سفید ہاتھی بن گیا،ایک آدمی کے کام کیلئے 100 افرادبھرتی کئے جائیں ہیں،جسٹس گلزار احمد

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیلیفون انڈسٹریز پاکستان کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس میں ٹی آئی پی حکومت اور ملازمین کو مذاکرات سے پیکج طے کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آئی پی بھی ہمارے لیے سفید ہاتھی بن گیا ہے،پی آئی اے، سٹیل مل کی طرح نجانے کتنے سفید ہاتھی ہماری بغل میں ہیں، ایک آدمی کے کام کیلئے 100 افراد بھرتی کئے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں ٹیلیفون انڈسٹریز پاکستان کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ملازمین کے وکیل شعیب شاہین نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ٹی آئی پی ادارہ عملی طور پر بند ہوچکا ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ ٹی آئی پی کے ٹیلیفون بہت اچھے ہوتے تھے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ٹی آئی پی کا خسارہ 2 ارب سے تجاوز کرگیا ہے،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹی آئی پی بھی ہمارے لیے سفید ہاتھی بن گیا ہے،پی آئی اے، اسٹیل مل کی طرح نجانے کتنے سفید ہاتھی ہماری بغل میں ہیں،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایک آدمی کے کام کیلئے 100 افراد بھرتی کیے جاتے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دیگرملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دیا ہے تو انہیں کیوں نہیں؟ وکیل ٹی آئی پی نے کہا کہ ملازمین کی جتنے سال کی سروس ہے اتنی بنیادی تنخواہیں دیں گے۔عدالت نے ٹی آئی پی، حکومت اورملازمین کو مذاکرات سے پیکیج طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 2 ماہ کے لئے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں