95

23 مارچ کو مسلم لیگ ن کا نئی تحریک چلانے کا اغاز

ایک طرف جہاں پوری قوم 23 مارچ کو یوم پاکستان کے حوالے سے تیاریوں میں مصروف ہے وہیں مسلم لیگ ن کے کارکنان اور رہنما کسی اور ہی تیاری میں ہیں۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر مسلم لیگ ن نے ایک ہیش ٹیگ ”مارچ 23 قائد سے اظہار یکجہتی ” متعارف کرواتے ہوئے کوٹ لکھپت جیل تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے ٹویٹر پر کئی لیگی کارکنان 23 مارچ کو ریلی میں شرکت کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

لیگی کارکنان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے وہ لوگ جو چند دن قبل تک کہہ رہے تھے کہ ن لیگ کے سپورٹرز غائب ہیں ۔ اب 23 مارچ کے پُرامن مظاہرے کے لیے بنتے مومینٹم کو دیکھ کر پریشان ہو جائیں گے کہ آخر بغیر کسی لیڈرشپ کال کے کیسے سپورٹرز اپنی مدد آپ کے تحت آگے آ رہے ہیں۔
ٹویٹر پر لیگی کارکنان مسلم لیگ ن کے دیگر کارکنان اور حامیوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ 23 مارچ کو اپنے قائد کے لیے باہر نکلیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ یاد رکھیں ہمارامقصد واضح ہے، یہ کمپین کسی سیاسی لیڈر ، منتخب نمائندے، عدالت ادارے یا فرد کےخلاف نہیں ، یہ کمپین صرف سبز ہلالی پرچم تلے نواشریف سے اظہاریکجہتی واسطے ہے ۔

لیگی کارکنان کی اس مہم پر کئی تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 23 مارچ کو ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد بھی پاکستان آئیں گے جبکہ اس کے علاوہ دیگر برادر اور دوست ممالک کے عہدیداران بھی یوم پاکستان پریڈ کی تقریب میں شریک ہوں گے ایسے میں مسلم لیگ ن کے کارکنان کی جانب سے اس طرح کی ریلیوں کے اعلانات ناخوشگوار تبدیلی لا سکتے ہیں ، ایسا کرنے سے ملک کا امیج بھی بُری طرح متاثر ہو سکتا ہے اور سکیورٹی خدشات پیدا ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں