156

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی نمبر 4470

کوٹ لکھپت جیل کے ملاقات کے کمرے میں کم و بیش آٹھ افراد موجود تھے۔

شلوار قمیض میں ملبوس بیمار شخص پاکستان کا تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیرِ اعظم اور اُن کے سامنے دو بار منتخب ہونے والی مسلم اُمّہ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور سابق صدر کا بیٹا اور دو بار منتخب وزیرِ اعظم کا نواسہ موجود تھا۔

ایک حال میں تاریخ اور دوسرا تاریخ کا مستقبل۔

نواز شریف غیر معمولی حالات میں غیر معمولی افراد سے مل رہے تھے۔

ماں کے ساتھ ایک جیل سے دوسری اور دوسری سے تیسری پھرنے والا یہ نوجوان ماضی کی پرچھائیاں ڈھونڈ رہا تھا۔

یہ وہی جیل ہے جہاں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی مقید رہے۔ وقت بدل گیا اور حالات بھی لیکن ایک بار پھر ایک سابق وزیرِ اعظم اسی جیل میں سزا بھگت رہے ہیں۔

مکالمے کا آغاز ہوا تو بیمار اور تنہا نواز شریف نے ملاقاتیوں کے سامنے انہی نظریات کا اظہار کیا جو وہ جیل جانے سے پہلے کر رہے تھے۔

بلاول نے بھی ستر سالوں میں منتخب رہنماؤں کا مقدمہ لڑنا شروع کیا۔

یہ نوجوان ستر سالوں کی تاریخ بدلنے کا خواہش مند ہے، لیکن میاں صاحب نے میثاقِ جمہوریت میں توسیع کا عندیہ دیتے ہوئے اس میں اضافی ترمیم کا مشورہ دے ڈالا۔

اب اس میں ’سویلین بالادستی‘ اور ’ووٹ کو عزت دو‘ جیسی ترامیم بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

آصفہ اور بختاور کو مشفقانہ پیار، زرداری صاحب کو سلام اور گلدستہ بھجوانے کا شکریہ ادا کرنے کا کہہ کر میاں صاحب آئندہ ملاقات کے خواہش مند اور جلد رہائی کے لئے دعا گو تھے۔

مگر یہ خواہش کب پوری ہو گی نواز شریف نہیں جانتے اور شاید بلاول بھی نہیں۔

اس ملاقات نے پنڈی اور اسلام آباد میں کافی ہلچل پیدا کی ہے۔

ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے تو دوسری جانب معاشی بدحالی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سرحدوں پر کیفیت اور پڑوسی کا جنگی ہیجان صورتحال کو غیر یقینی بنا چکا ہے۔

ایسے میں وزیراعظم کو آئندہ چند ماہ میں عسکری قیادت سے متعلق اہم فیصلے بھی کرنے ہیں۔ پنڈی کی کامیابی یہی ہو گی کہ اندرونی بحران جنم نہ لیں اور قومی یکجہتی بھی برقرار رہے۔

سیاست کے طالب علم اس بات پر متفکر ہیں کہ ایک جانب سندھ کا صوبائی بیانیہ اور دوسری جانب پنجاب میں سیاسی حزبِ اختلاف کا خلا۔۔۔ جہاں اکثریت نواز شریف کے حامی ووٹرز کی ہے۔۔۔ میں مخالف بیانیہ پنپ سکتا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں پہلے ہی عوامی حمایت میں کوشاں واحد اپوزیشن پشتون تحفظ تحریک کی صورت موجود ہے۔ اور بلوچستان کے بارے میں اب میں کیا لکھوں۔۔۔ ایسے میں یک جماعتی نظام کی کوششیں اور خواہش خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

بلاول، نواز ملاقات حکومت ہی نہیں، ماڈل ٹاون کے لئے بھی پریشانی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

ایوانوں میں بیٹھے نواز لیگ کے رہنماؤں کو پنجاب کے محاذ پر کارکنوں کو آج کے بعد جواب دینا ہو گا کہ وہ اپنے اسیر اور بیمار رہنما کے لئے متحرک کیوں نہ ہوئے یا یہ کہ مصالحانہ خاموشی کی وجوہات کیا ہیں؟

دراصل اسلام آباد کے بڑے گھر والوں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ طویل عرصے تک نواز شریف کا جیل میں رہنا یا ملک بدر ہو جانا خواہش تو ہو سکتا ہے لیکن اگلے ساڑھے چار سالوں میں کوئی سیاسی بھونچال نہ آئے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔۔۔

اور نہ ہی اصل مقتدروں کا یہ شیوہ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں