206

پاکستان میں معلومات تک رسائی، ایک خواب

انگریز دور حکومت نے جہاں ہم پر کئی احسانات کئے ہیں وہیں کئی ایسے مسائل بھی چھوڑ گئے ہیں، جن سے مقابلہ آج بھی جاری ہے۔ مواصلات کے نظام سے لیکر بلند و بالا تاریخی عمارتیں انگریز دور میں ہی قائم کی گئی ہیں، جب کہ پاکستان کی آزادی کے 70سال بعد بھی ہم کئی قوانین انگریز دور کے دیئے ہوئے ہی استعمال کر رہے ہیں۔

انگریز سوچ اور نظام کے عکاس ایک قانون کو ختم کرنے کی کوشش مملکت خداداد نے شروع کر دی ہے۔ سال 1923میں انگریز حکمرانوں نے ”آفیشل سیکرٹ ایکٹ”کے نام سے ایک قانون متعارف کرایا اور شہریوں کو حکومتی معلومات سے محروم کرنے کیلئے ایک قانونی راستہ اختیار کیا گیا۔ اس قانون کے تحت ہماری بیوکریسی کئی برسو ں سے خود کو مقدس گائے سمجھ رہی ہے اور ان سے سوال کرنے کا حق کسی بھی شہری کو حاصل نہیں ہے، تاہم 2013میں جب پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کی حکومت کی مسند سنبھالی تو ایک ایسا قانون پیش کیا جس نے پہلی مرتبہ صوبے کی بیوروکریسی کو عوام کے سامنے جواب دہ بنا دیا۔

صوبائی حکومت نے 2013میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ منظور کیا جسے پی ٹی آئی دنیا کا دوسرا بہترین قانون گردانتی رہی ہے اس قانون میں سب سے بہترین شق یہ شامل کی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو پاکستانی شناختی کارڈ کا حامل ہے چاہے وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، خیبر پختونخوا حکومت سے معلومات حاصل کر سکتا ہے او صوبائی حکومت کا متعلقہ ادارہ کم از کم 10اور زیادہ سے زیادہ 20روز کے اندر جواب دینے کا پابند ہوگا۔ معلومات تک رسائی کے قانون کو نافذ ہوئے 5سال ہو گئے ہیں اور ان 5سالہ دور میں اس قانون کے نفاذ میں تاحال شہریوں کو ایسے انگنت مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے یہ قانون بے سروپا ہے، نہ صرف شہریوں کی بلکہ کئی ماہرین کی نظر میں یہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ دراصل ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کا اطلاق اس طرح نہیں کیا جا سکا ہے، جس طرح اس کی تشہیر کی گئی تھی بلکہ اس قانون کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ خود پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت بن گئی ہے ماضی میں بھی اس قانون کو بچانے کیلئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو میدان میں کودنا پڑا تھا۔

آر ٹی آئی کی مدد سے صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ہونے والی بھرتیوں کا ریکارڈ نکالا گیا تھا، جس میں یہ بات واضح ہو گئی کہ بھرتی ہونے والوں میں اسپیکر اسد قیصر کے آبائی ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ تھی اسی طرح خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور کو پاکستان بھر کا سب سے کفایت شعار وزیر اعلیٰ ہاوس گردانا جانا جاتا تھا، تاہم ایک شہری نے اسی قانون کے تحت وزیر اعلیٰ ہاوس کا ریکارڈ نکالا اور پاکستان بھر کوبتادیا کہ ایک سال میں صرف چائے اور پیسٹریوں پر 5کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے گئے تھے، جب کہ اسلام آباد میں خیبر پختوخوا ہائوس کا خرچہ 20کروڑ روپے تھا۔ اسی طرح سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے اپنا صوابدیدی فنڈ کتنا اورکن کن اضلاع میں کن مدوں میں خرچ کیا گیا تھا؟ وہ تفصیلات بھی اسی قانون کے تحت سامنے آئی تھی۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد جب صوبائی حکومت کو معلوم ہوا کہ یہ قانون ان کیلئے کس حد تک خطرناک ہے۔ صوبائی حکومت اب اس قانون کو اپنی حالت پر چھوڑ چکی ہے، جب کہ اس کے تحت جو معلومات فراہم کی جانی چاہئے، اب وہ بھی آہستہ آہستہ ختم کی جا رہی ہیں اور شہری صرف درخواست جمع کرانے تک ہی محدود ہیں۔ کئی ادارے اب معلومات فراہم ہی نہیں کرتے یا پھر جان بوجھ کر وہ غلط معلومات فراہم کر دیتے ہیں، جس کے بعد شہری اس معلومات کی درستگی معلوم کرنے سے قاصر ہیں۔ رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس قانون کو اب تک 12ہزار سے زائد درخواستیں مختلف اداروں کو معلومات کی فراہمی کیلئے جمع کرائی گئی ہیں، جن میں سے 7ہزار سے زائد کے جواب میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں، جب کہ 4ہزار 899درخواستوں پر معلومات فراہم نہ ہونے کی صورت میں شکایات درج کی گئی ہیں۔ ان شکایات میں 4ہزار 569شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے، جب کہ صرف 330ایسی ہیں پر کارروائی جاری ہے۔ کمیشن نے الیکٹرانک آر ٹی آئی کا نظام بھی متعارف کرایا لیکن وہ بھی ناکام ہو گیا ای آر ٹی آئی میں ان محکموں کی عدم دلچسپی پر محکمہ اطلاعات نے ایک مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ تمام 19محکموں کی ای آر ٹی آئی میں ناقص کارکردگی واضح کرتی ہے کہ محکمہ کا پبلک انفارمیشن آفیسر کمپیوٹر اور پورٹل کے استعمال سے واقف نہیں ہے یا پھر پبلک انفارمیشن آفیسر جان بوجھ کر معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔

قانون میں موجود سقم اور کمزوری کا احساس خود رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کو بھی ہے اور اس قانون کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اگر ایک پبلک انفارمیشن آفیسر معلومات فراہم نہیں کرتا تو اس کے خلاف کارروائی کیسے ہو گی؟ جرمانہ اور قید کی سزا تو موجود ہے تاہم رولز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ کمزور ہے رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن 5سال بعد بھی اپنے رولز آف بزنس سے محروم ہے اور یہی اس قانون کی کامیابی میں رکاوٹ ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن نے اس قانون کی منظوری کیلئے اس میں کچھ ترامیم کا مسودہ تیار کیا تھا اور صوبائی حکومت کو بھی بھیج دیا تھا تاہم وہ سفارشات آج بھی فائلوں کی دھول میں اٹی پڑی ہیں۔ صوبائی حکومت نے اس قانون کو صوبہ بھر میں پھیلانے کا اعلان کیا تھا تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ 5سال بعد بھی یہ صرف صوبائی دارلحکومت تک محدود ہے رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن نے چار ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کوہاٹ، بنوں ، ڈی آئی خان اور ایبٹ آباد میں ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسرز تعینات تو کر دئے ہیں تاہم ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ایک کمرہ ،میز اور کرسی کے ساتھ یہ افسران صرف حاضری تک ہی محدود ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں