216

افغان مہاجرین کو شہریت دینا کیوں ضروری؟

وزیراعظم عمران خان نے پچھلے دنوں یہ کہا تھا کہ ’’پوری دنیا میں یہ قانون رائج ہے کہ جو بچہ جس ملک میں پیدا ہو جائے۔ اُسے اُس ملک کی شہریت دے دی جاتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں عشروں سے رہتے لاکھوں افغان اور بنگلہ دیشی تارکینِ وطن بے نام زندگی گُزار رہے ہیں اور ان کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ لہذا ان کی حکومت کی ترجیح ہے کہ ان افغان اور بنگلادیشیوں کو شہریت دے دی جائے”۔

عمران خان کے اس بیان پر جہاں پشتون قوم پرستوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ وہاں سندھی اور بلوچ قوم پرستوں نے شدید مخالفت شروع کردی۔ ایک اندازے کے مُطابق اس وقت 30 لاکھ سے زائد افغان تارکینِ وطن پاکستان میں رہائش پذیر ہیں تو دوسری طرف صرف سندھ کے اندر پانچ لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی رہ رہے ہیں۔

سندھی قوم پرست سمجھ رہے ہیں کہ جیسے ماضی میں قیام پاکستان کے ساتھ ہندوستانی مُہاجرین نے انہیں کراچی سے بےدخل کرڈالا اور سندھ کی سیاست اور قوت اندرون سندھ تک محدود کرڈالی۔ ویسے ہی یہ پانچ لاکھ بنگلہ دیشی تارکین وطن انہیں مزید مسائل سے دوچار کریں گے۔ بلوچستان کے قوم پرستوں کو بلوچستان میں پہلے سے ہی پشتونوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے جو ان کی سیاسی اور افرادی طاقت کیلئے چیلنج بنے ہوئے تھے۔ وہاں مزید افغانوں کو شہریت دینا پشتونوں کی آبادی کو دگنا کردے گا اور انہیں اپنے صوبے میں سیاسی اور افرادی طاقت ڈوبتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ لہٰذا وہ ہر قیمت پر افغانوں کو شہریت دینے کی مزاحمت کرنے کے موڈ میں نظر آرہے ہیں۔

افغانوں کی مخالفت خود حکومتِ پاکستان نے کی ہے۔ پشاور آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد حکومتی مشینری نے افغانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی ایکشن پلان میں وہ سب اس نکتے پر متفق ہوئے تھے کہ افغانی پناہ گزینوں کو جلد از جلد ان کی وطن واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ اسی پروپیگنڈہ کی وجہ سے ایک عام افغان کو غدار اور مشکوک ٹھہرایا گیا۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی سابقہ حکومت میں پانچ لاکھ افغانوں کو جس طرح بنا کسی وارننگ کے ملک بدر کیا گیا اور افغانستان میں موجود انڈین لابی نے پاکستان کے اس اقدام کو جس خوبصورتی سے کیش کیا وہ پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ افغانستان میں تاجک اور اُزبک عشروں سے پاکستانی مخالف لابی کا حصہ رہے ہیں اور افغان پشتون پاکستان کے ساتھ قریبی روابط کی وجہ سے ہمشہ نان پشتون قوتوں کے نزدیک مشکوک ٹھہرا۔ سو کابل میں پاکستان کے لئے مُخالفت کی فضا قائم کرنا اتنا اسان بھی نہیں تھا۔ مگر حالیہ ملک بدری سے ہندوستان نے ننگرہار اور قندہار جیسے پشتون صوبوں میں جہاں پاکستان مخالف جذبات پیدا کئے وہاں زمینی طور پر پاکستان کی عدم دلچسپی نے پاکستان کو افغان پشتونوں سے دُور کرڈالا۔

پاکستانی میڈیا کے یک طرفہ پروپیگنڈے کی وجہ سے پنجاب میں افغانیوں کو ابھی بھی شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ افغانستان میں وزارت قبائل و اقوام میں یہ قانون ابھی بھی موجود ہے کہ جو بھی پاکستانی پشتون کابل سے شناختی کارڈ مانگے گا ان کو شناختی کارڈ جاری کردیا جاتا ہے۔ اس شناختی کارڈ پر پاکستانی پشتون کو ہر وہ سہولت میسر ہوجاتی ہے جو ایک عام افغان شہری کو میسر ہوتی ہے۔ لہٰذا خیبر پختونخوا کا اکثریتی پشتون طبقہ عمران خان کے اس اقدام کی مخالفت نہیں کرسکتا۔

اس ثقافتی تعلق کے ساتھ افغان پناہ گزین اس وقت پاکستان کی معیشت میں بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی سرمایہ کاری پاکستان میں کرچکے ہیں۔ پاکستان میں کپڑے کی صنعت میں افغان اس وقت پیش پیش ہیں۔ استعمال شدہ مصنوعات کی درآمد، پنجاب میں چاول کی کاشت اور برآمدات میں افغانوں کا بھرپور کردار ہے۔ پاکستان کی افرادی قوت میں ایک بھاری تعداد افغان مہاجرین کی ہے جو ہر مشکل کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ اگر ان کو ان کو ملک بدر کیا گیا تو پاکستان کو تعمیراتی صنعت میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پختون روایات، انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کو اگر نظر انداز بھی کردیں تو موجودہ وقت میں افغان مہاجرین کو شہریت دینا پاکستان کے حق میں مفید ثابت ہوگا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اتنی بھاری سرمایہ کاری کے باجود افغان مہاجرین پاکستان کو ٹیکس نہیں دے پاتے نہ حکومت ان کو ٹیکس پر مجبور کرسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس شناختی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ غیر یقینی صورتحال کے باعث افغان تاجر پاکستان میں حاصل ہونے والا بھاری منافع افغانستان منتقل کردیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو آج نہیں تو کل پاکستان سے نکال دیا جائے گا۔ لہٰذا ایک حد سے بڑھنے کے بعد وہ اپنے اثاثے افغانستان منتقل کردیتے ہیں۔ اگر ان کو پاکستان کی شہریت دی جائے تو وہ اپنا منافع بھی افغانستان منتقل نہیں کریں گے بلکہ پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوں گے۔

اگر چہ موجودہ صورتحال میں عمران خان کے اعلان پر عمل درآمد مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں۔ اگر عمران خان اپنے اس فیصلے پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ان کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔ اس سے عوامی اور حکومتی سطح پر نہ صرف پاک افغان تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ عالمی برادری میں بھی پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ ہوگا۔​

تحریر:
عارف خٹک
فری لانس جرنلسٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں