321

وزیراعظم پاکستان کا حلف نامہ

قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے فوری بعد ایوانِ صدر میں تقریب حلف برادری ہوتی ہے اور پھر صدر پاکستان نو منتخب وزیر اعظم سے حلف لیتے ہیں.

’’میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفا دار رہوں گا:کہ بحیثیت وزیر اعظم پاکستان‘میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری‘اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ‘اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری‘ سا لمیت‘ استحکام‘ بہبودی اور خوش حالی کی خاطر انجام دوں گا:کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:کہ میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ‘بلا خوف و رعایت اور بلارغبت و عناد‘ قانون کے مطابق انصاف کروں گا:اور یہ کہ میں کسی شخص کو بلاواسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا اور نہ اسے ظاہر کروں گا جو بحیثیت وزیر اعظم پاکستان میرے سامنے غور کیلئے پیش کیا جائے گا یا میرے علم میں آئے گا بجزجب کہ بحیثیت وزیر اعظم اپنے فرائض کی کما حقہ انجام دہی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو۔ (اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے۔آمین)

حلف اٹھائے بغیر کوئی بھی اپنی ذمہ داری باضابطہ طور پر نہیں سنبھال سکتا۔اور حلف اٹھانے والا اپنے عقیدے کے مطابق حلف کے مسودے میں ترمیم کرنے کا بھی مجاز نہیں ہے۔اس کے علاوہ حلفِ صدقِ دل سے اٹھایا جاتا ہے ورنہ حلف اٹھانے والا اپنے منصب کیلئے پہلے سیکنڈ سے ہی نا اہل ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں ریاست اور سیاستِ کے تمام مقتدر اور اعلیٰ ادارے کے اراکین بشمول صدر، وزیراعظم، ممبران قومی اسمبلی، اراکین سینیٹ، ممبران اسمبلی، گورنرز، ججز، الیکشن کمیشنز، مسلح افواج کے سربراہان خدا کو حاجر و ناظر جان کر پاکستانی عوام کے سامنے، اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ’’امانت‘‘ یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خود مختاری، سا لمیت، استحکام، بہبود، خوش حالی اور اُس میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کا حلف (Oath) اٹھاتے ہیں اور خدا کے ساتھ اس حلف کی پابندی کا عہد کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں