104

سیاسی پارٹیوں کے دعووں، وعدوں‌ پر ایک نظر

جوں جوں‌ الیکشن قریب آرہے ہیں، سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے. جلسے جلسوں کی لہر ہے، گلی گلی جھنڈے اور بینرز لہرا رہے ہیں.

الیکشن کی مناسبت سے سیاسی جماعتیں اپنے منشور بھی پیش کر رہی ہیں، جن میں‌ کہیں‌ پرانے وعدے دہرائے گئے ہیں، کہیں‌ نئے دعوے کیے گئے ہیں.

اس ضمن میں ایم ایم اے نے پہل کی، دیگر جماعتوں سے پہلے اپنا منشور پیش کیا. بعد میں‌ پیپلزرٹی اور ن لیگ، آخر میں‌ پی ٹی آئی نے منشور عوام کے سامنے رکھا.

اس تحریر میں‌ چار بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔

ایم ایم اے کے بارہ نکات

دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے 5 جون کو اپنے 12 نکاتی منشور کا اعلان کیا۔

منشور میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ، بااختیار و آزاد عدلیہ کا قیام، اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم، نئے ڈیمز کی تعمیر، بجلی کے مؤثر نظام کی تشکیل، بھارت کی آبی جارحیت کا مؤثر تدارک، سی پیک میں مقامی آبادی کے روزگار اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کا احاطہ کیا گیا۔

منشور میں ملک میں باوقار اور آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینے، تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات کے قیام، ٹیکسز کے خاتمے، استحصال اورعدم مساوات کے خاتمے اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا۔

پیپلزپارٹی کے 76 صفحات پر پھیلے پروگرام

پیپلزپارٹی نے 28 جون کو اپنا منشور پیش کیا، جو 76 صفحات پر مشتمل تھا۔

معاشی انصاف، غربت میں کمی، تعلیم اور بنیادی صحت، معذور افراد کو معاشرے کا حصہ بنانا، زرعی اصلاحات، خواتین کی خود مختاری اور نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کی فراہمی پیپلزپارٹی کے منشور کے بنیادی اجزا ہیں۔

اس منشور میں ماں، بچے کی صحت کا پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاورٹی ریڈکشن پروگرام، بھوک مٹاؤ پرگرام، آب پاشی نظام بہتر بنانے کا پروگرام، زرعی اصلاحات کا پروگرام، پیپلز فوڈ کارڈ، فیملی ہیلتھ سروس شامل ہیں۔

ن لیگ اور پنجاب ماڈل

مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے 5 جولائی کو منشور پیش کیا.

یہ منشورہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند طبقے کوروزگار کی فراہمی کے لیے سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتوں کے قیام، زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے انڈسٹریل کمپلیکس کی تعمیر، دیامر بھاشا ڈیم کے بڑے توانائی منصوبے کو مکمل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

اس منشور میں صنعتی انقلاب، دنیا کے جدید ترین ٹرانسپورٹ سسٹم، پنجاب اسپیڈ کو پاکستان اسپیڈ اور محصولات کے نظام کو کرپشن فری بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنا، محروم طبقے کو پاؤں پر کھڑا کرنا، پنجاب میں شعبہ صحت میں کی گئی اصلاحات کا ملک بھرمیں نافذ، ہر اسکول میں ٹیکنیکل ووکیشنل ٹریننگ سینٹر بنانے کا اعلان کیا گیا.

پی ٹی آئی کی کروڑوں ملازمتیں، لاکھوں گھر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 9 جولائی کو آیندہ انتخابات کے لیے منشور پیش کیا.

یہ منشور پولیس کوغیر سیاسی بنانے، اداروں کو مضبوط کرنے، عوام پر سرمایہ کاری، نوکریوں کی فراہمی، تعلیم، گھر، صحت کے شعبوں پر مرکوز ہے.

اس منشور میں‌ ایک کروڑ ملازمتیں دینے، 50 لاکھ مکانات کی تعمیر، سی پیک سے گیم چینجنگ نتائج حاصل کرنا، غربت کے خاتمے کے لئے سیاحت کے فروغ، ایف بی آر میں اصلاحات، ملکی برآمدات میں اضافہ، کرپشن کا خاتمہ، پانی کو ری سائیکل کرنا، صحت اور تعلیم کے نظام کی بہتری، جنوبی پنجاب کا صوبہ اور کڑے ا حتساب کا احاطہ کیا گیا.

حرف آخر

بہ ظاہر چاروں بڑی جماعتوں کے منشور میں کئی دعوے اور وعدے نظر آتے ہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے منشور کے پیچھے ان کا ماضی میں اقتدار میں رہنے کا وسیع تجربہ ہے۔

پی ٹی آئی نئے وعدے اور ارادوں کے ساتھ میدان میں ہے، گو ایم ایم اے کے ہاں دینی رنگ نمایاں ہے، مگر توازن نظر آتا ہے۔

چاروں جماعتوں کے منشور متوازن اور متاثر کن ہیں، مگر یوں لگتا ہے کہ عوام اس بار بھی منشور کے بجائے قائدین کی مقبولیت، امیدوار کی اثرپذیری، ووٹرز کی ماضی کی وابستگی اور نیب کیسز میں ہونے والی گرفتاریوں کی بنیاد پر ووٹ ڈالیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں