40

پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ معطل

سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ معطل کر دیا ہے اور اُنھیں اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی بھی اجازت دی ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وکیل سے استفسار کیا کہ ‘یہ سید پرویز مشرف کون ہیں؟’۔ جس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ ‘پرویز مشرف ملک کے سابق آرمی چیف اور صدر ہیں’۔

عدالت عظمیٰ نے سابق فوجی صدر کو 13 جون کو ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوں تو اُنھیں گرفتار نہ کیا جائے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف آئین شکنی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے سمیت چار مقدمات میں اشتہاری ہیں۔مختلف عدالتوں نے ان مقدمات میں ملزم پرویز مشرف کی جائیداد قرق کرنے کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پرویز مشرف کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔

پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ان کے موکل پر انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق تاحیات پابندی عاید کرنے کے بارے میں جو فیصلہ دیا ہے اس میں حقائق کو سامنے نہیں رکھا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ سنہ2013 میں پشاور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا اس وقت سابق فوجی صدر کسی مقدمے میں سزا یافتہ بھی نہیں تھے۔قمر افضل کا کہنا تھا کہ عدالت کسی شخص پر انتخابات میں حصہ لینے پر کیسے پابندی عائد کر سکتی ہے جب وہ کسی مقدمے میں سزا یافتہ بھی نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر انتخابات میں تاحیات پابندی عائد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ سابق فوجی صدر نے ملکی آئین کو توڑا ہے اس لیے اُن پر تاحیات پابندی عائد کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے موکل سے کہیں کہ وہ جون کو عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری ان کی عدالت میں پیشی سے مشروط ہے۔پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے موکل کے عدالت میں پیش ہونے کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔

واضح رہے کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ملزم پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کے احکامات دیے تھے۔

سابق فوجی صدر کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ یہ پرویز مشرف کون ہیں جس پر بتایا گیا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پاکستان کے صدر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے 1999 میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کو ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو اعلی عدلیہ کے جن ججز نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا تو ان میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی شامل تھے۔

سابق فوجی صدر پر انتحابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی کا فیصلہ صوبہ خیبر پختون خوا کے نگراں وزیر اعلی جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد نے بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ دیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد کو ان کے زیر استعمال سپریم کورٹ کی گاڑی واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاہم اس حکم پر صوبہ خیبر پختون خوا کے نگراں وزیر اعلیٰ کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں